ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 322
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۲ ازالہ اوہام حصہ اول کیا اس طرح اتمام حجت ہو سکتا ہے؟ کہ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام و نشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے ہی منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے کیا اُن کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہو سکتا کہ یا الہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا جس کی وجہ سے فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔ کیا یہ اتمام حجت کا طریق ہے؟ کہ دلیل تو ابھی پردہ غیب میں ہو اور یہ سمجھا جائے کہ الزام پورا ہو گیا ہے۔ ایسے معنے قرآن شریف کی طرف منسوب کرنا گویا اس کی بلاغت اور پر حکمت بیان پر دھبہ لگانا ہے۔ سچ ہے کہ بعض نے یہی معنے لئے ہیں مگر انہوں نے سخت غلطی کھائی بلکہ حق بات یہ ہے کہ ان کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اُٹھنے کے لئے نشان ہے کیونکہ اس سے مُردہ دل زندہ ہور ہے ہیں۔ قبروں میں گلے سڑے ہوئے باہر نکلتے آتے ہیں اور خشک ہڈیوں میں جان پڑتی جاتی ہے چنانچہ قرآن شریف خود اپنے تئیں قیامت کا نمونہ ظاہر کرتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورً ا لِنُحْيِ بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا ل ( سورة فرقان الجز و نمبر ۱۹) یعنی ہم نے آسمان سے پاک پانی اُتار یعنی قرآن تا ہم اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کریں پھر فرماتا ہے وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذلِكَ الْخُرُوج سے سورة ق الجز نمبر ۲۶ ۔ الفرقان : ۵۰،۴۹ ق ۱۲