ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 311

روحانی خزائن جلد۳ ۳۱۱ ازالہ اوہام حصہ اول تو آپ پیشگوئی کی صورت کو دیکھ کر فی الفور دور اندیشی کو کام میں لائے اور شرط کی کسی قدر (۳۰۷ ہے ترمیم کرنے کے لئے ابو بکر صدیق کو حکم فرمایا اور فرمایا کہ بضع سنین کا لفظ مجمل ہے اور اکثر نو برس تک اطلاق پاتا ہے۔ ایسا ہی آپ نے اُمت کے سمجھانے کے لئے بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں خود اپنا غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔ اب کیا یہ تعلیم نبوی کافی نہیں اور کیا یتعلیم بآواز بلند نہیں بتلارہی کہ پیشگوئیوں پر اجمالی طور پر ایمان لاؤ اور اُن کی اصل حقیقت حوالہ بخدا کرو ۔ اُمت محمدیہ میں تفرقہ مت ڈالو اور تقویٰ کا طریق اختیار کر لو۔ اے حضرات! اکیلے اکیلے اپنے گھروں میں بیٹھ کر فکر کرو ۔ اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے سادگی سے میری بات کو سوچو۔ قبرستان میں جاؤ اور اپنی موت کو یاد کر کے ایک بے غبار نظر اپنے لئے لاؤ اور خوب دیکھ لو کہ تقویٰ کا کونسا طریق ہے اور احتیاط اور خدا ترسی کی کونسی راہیں ہیں؟ اگر آپ پر یہ بات مشتبہ ہے جو میں نے پیش کی ہے تو کیا آپ لوگوں کا اس بات میں بھی کچھ حرج ہے کہ آپ اجمالی طور پر اپنے ایمان پر قائم رہیں اور اس کی تفاصیل مخفیہ میں خواہ نخواہ (۴۰۸) دخل نہ دیں اور مجھے میرے خدائے تعالیٰ کے ساتھ چھوڑ دیں ۔ میں کسی پر جبر نہیں کرتا ۔ ایک تبلیغ ہے چاہے کوئی سنے یا نہ سنے اگر کسی کو خدائے تعالیٰ یقین بخشے اور وہ مجھے پہچان لے اور میری باتوں کو مان لیوے تو وہ میرا خاص طور پر بھائی ہے اور اس کو بلا شبہ اپنے ایمان کا اجر ہے لیکن اگر آپ لوگ اتنا بھی کریں کہ اس پیشگوئی کے دقائق مخفیہ کو خدائے تعالی کے سپر د کر رکھیں اور ایمان کی حد پر ٹھہرے رہیں اور خواہ نخواہ کامل عرفان کا دعوی نہ کریں تو سوچو اس میں آپ کے لئے خرابی کیا ہے اور عند اللہ کونسا مواخذہ ہے؟ کیا اگر آپ ایسا کریں تو اس سے آپ کو مواخذہ ہوگا؟ لیکن اگر آپ اپنے ایمان کی حد سے بڑھ کر قدم رکھیں اور وہ دعوے کریں جس کا آپ کو علم نہیں دیا گیا تو بے شک اس دخل بے جا کی باز پرس ہوگی ۔