ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 307

۳۰۷ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ اول ان مقامات کو جن میں مسیح کی موت کا ذکر ہے یونہی بحث سے خارج سمجھ کر خاموشی اختیار کرتے اور اگر فرض کے طور پر یہ بھی مان لیں کہ کوئی صحابہ میں سے یہی سمجھ بیٹھا تھا کہ ابن مریم سے ۲۰۰ ابن مریم ہی مراد ہے تو تب بھی کوئی نقص پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پیشگوئیوں کے سمجھنے میں قبل اس کے جو پیشگوئی ظہور میں آوے بعض اوقات نبیوں نے بھی غلطی کھائی ہے پھر اگر کسی صحابی نے غلطی کھائی تو کون سے بڑے تعجب کی بات ہے۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست اور فہم تمام امت کی مجموعی فراست اور فہم سے زیادہ ہے بلکہ اگر ہمارے بھائی جلدی سے جوش میں نہ آجائیں تو میرا تو یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اور فہم آپ کے فہم اور فراست سے برابر نہیں مگر پھر بھی بعض پیشگوئیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے اُن کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی میں پہلے اس سے چند دفعہ لکھ چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر فرما دیا تھا کہ میری وفات کے بعد میری بیبیوں میں سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رو بروہی بیبیوں نے با ہم ہاتھ ناپنے شروع کر دیئے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پیشگوئی کی (۴۰۱) اصل حقیقت سے خبر نہ تھی اس لئے منع نہ کیا کہ یہ خیال تمہارا غلط ہے ۔ آخر اس غلطی کو پیشگوئی کے ظہور کے وقت نے نکالا۔ اگر زمانہ اُن بیبیوں امہات المؤمنین کو مہلت دیتا اور وہ سب کی سب ہمارے اس زمانہ تک زندہ رہتیں تو صاف ظاہر ہے کہ صحابہ کے عہد سے لے کر آج تک تمام امت کا اسی بات پر اتفاق ہو جاتا کہ پہلے لمبے ہاتھ والی بی بی فوت ہوگی اور پھر ظہور کے وقت جب کوئی اور ہی بیوی پہلے فوت ہو جاتی جس کے اوروں کی نسبت لمبے ہاتھ نہ ہوتے تو اس تمام اجتماع کو کیسی خجالتیں اُٹھانی پڑتیں اور کس طرح ناحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کراتے اور اپنے ایمان کو شبہات میں ڈالتے ۔