ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 302
روحانی خزائن جلد ۳ ٣٠٢ ازالہ اوہام حصہ اول خدائے تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرنا چاہا۔ اور سخت گنہ گار مومن کی بھی کسی قدر عزت ہوتی ہے مگر انہوں نے کچھ بھی پروا نہ رکھ کر عام طور پر یہ تقریریں کیں اور خط لکھے اور اشتہار شائع کئے ۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس مشابہت کے پیدا کرنے کے لئے اُن سے ایک کام لیا ہے اور دوزخی یا بہشتی ہونے کی اصل حقیقت تو مرنے کے بعد ہر ایک کو معلوم ہوگی جس وقت بعض بصد حسرت دوزخ میں پڑے ہوئے کہیں گے مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْأَشْرَارِ ! عیب رنداں مکن اے زاہد پاکیزہ سرشت تو چه دانی که پس پرده چه خوب است و چه زشت اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو رفع کا لفظ حضرت مسیح کے لئے قرآن کریم میں آیا ہے وہی لفظ الہام کے طور پر اس عاجز کے لئے بھی خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ۳۹۲) اگر کوئی یہ اشکال پیش کرے کہ مسیح تو انجیل میں کہتا ہے کہ ضرور ہے کہ میں مارا جاؤں اور تیسرے دن جیا جی اٹھوں تو بیان مذکورہ بالا کیوں کر اس کے مطابق ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس موت سے حقیقی موت مراد مراد نہیں نہ ہے بلکہ مجازی موت مراد ہے۔ یہ عام محاورہ ہے ہے کہ کہ جو شخص قریب مرگ ہو کر پھر بچ جائے اس کی نسبت یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نئے سرے سے زندہ ہوا۔ مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گہ میں ہو گیا یہ مصیبت در حقیقت موت سے کچھ سے کچھ کم نہیں تھی اور عام طور پر یہ بول چال ہے کہ جو شخص ایسی مصیبت تک پہنچ کر بچ جائے اس کی نسبت یہی کہتے ہیں کہ وہ مر مر کر بیچا اور اگر وہ کہے کہ میں تو نئے سرے زندہ ہوا ہوں تو اس بات کو کچھ جھوٹ یا مبالغہ خیال نہیں کیا جاتا۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ کونسا قرینہ خاص مسیح کے لفظ کا اس بات پر ہے کہ اس موت سے مراد حقیقی موت مراد نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرینہ ب یہ ہے کہ یہ قرینہ بھی خود حضرت مسیح نے فرمایا ہے جبکہ فقیہ اور فریسی اور یہودیوں کے مولوی اکٹھے ہو کر اس کے پاس گئے کہ تو نے مسیح ہونے کا تو دعوی کیا پر اس دعوی کو ہم کیوں کر بغیر معجزہ کے مان لیں ۔ تو حضرت مسیح نے اُن فقیہوں اور اص : ۶۳