ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 301

روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ اول یہ گورنمنٹ بے گناہ کی رعایت رکھتی ہے اور پلاطوس کی طرح رعیت کے رعب میں نہیں آتی مگر ہماری اس قوم نے ذلیل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا تا دونوں طرف سے مشابہت ثابت کر کے دکھا دیوے۔ انہیں الہام بھی ہو گئے کہ یہ جہنمی ہے آخر جہنم میں پڑے گا اور اُن میں داخل نہیں ہو گا جن کا عزت کے ساتھ خدائے تعالی کی طرف رفع ہوتا ہے۔ سو آج میں اُس الہام کے معنی سمجھا جو اس سے کئی سال پہلے براہین میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے يعنى إِلَى مُتَوَفَّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ (۳۰۰) الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ یعنی یہ مولوی صاحبان عبد الرحمان و عبد الحق تو مجھے اس وقت قطعی دوزخی بناتے ہیں لیکن اُن کے اس بیان سے دس سال پہلے خدائے تعالیٰ مجھے جنتی ہونے کا وعدہ دے چکا ہے اور جس طرح یہودیوں نے خیال کیا تھا کہ نعوذ باللہ عیسی مسیح لعنتی ہے اور ہر گز عزت کے ساتھ اس کا رفع نہیں ہوگا اور اُن کے رڈ میں یہ آیت نازل ہوئی تھی انِي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى - اس طرح خدائے تعالیٰ نے اس جگہ بھی پہلے سے ہی اپنے علم قدیم کی وجہ سے یہ الہام بطور پیشگوئی اس عاجز کے دل پر القا کیا چونکہ وہ جانتا تھا کہ چند سال کے بعد میاں عبد الحق اور میاں عبدالرحمن اُسی طرح اس عاجز کو لعنتی ٹھہرائیں گے جس طرح یہودیوں نے حضرت مسیح کو ٹھہرایا تھا اس لئے اُس نے پیش از وقوع اس پیشگوئی کو براہین میں درج کرا کر گویا سارے جہان میں مشہور کر دیا تا اس کی قدرت و حکمت ظاہر ہو اور تا یہ بھی معلوم ہو کہ جس طرح مسیح کے عہد کے مولویوں نے اس کو منتی سمجھا اور اس کے بہشتی ہونے سے انکار کیا اور اس کا عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہونا اور راستبازوں ﴿۳۹﴾ کی جماعت میں جاملنا قبول نہ کیا ایسا ہی اس عاجز کے ہم مذہب مولویوں نے اس ناکارہ کو آل عمران : ۵۶