ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 299
روحانی خزائن جلد۳ ۲۹۹ ازالہ اوہام حصہ اول میں تین جگہ مسیح کا فوت ہو جانا بیان کیا گیا ہے ۔ پھر افسوس کہ ہمارے مولوی صاحبان ان مقامات پر نظر نہیں ڈالتے اور بعض اُن میں سے بڑی چالاکی سے کہتے ہیں کہ یہ تو ہم نے مانا کہ قرآن کریم یہی فرماتا ہے کہ مسیح فوت ہو گیا مگر کیا اللہ جل شانہ اس بات پر قادر نہیں کہ پھر زندہ کر کے اس کو دنیا میں لاوے؟ مگر ان علماء کے علم اور فہم پر رونا آتا ہے۔ (۳۸۲ اے حضرات ! ہم نے یہ بھی مانا کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز پر قادر ہے چاہے تو تمام نبیوں کو زندہ کر دیوے مگر آپ سے سوال تو یہ کیا تھا کہ قرآن شریف تو حضرت مسیح کو وفات تک پہنچا کر پھر چپ ہو گیا ہے اگر آپ کی نظر میں کوئی ایسی آیت قرآن کریم میں ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ مسیح کو مارنے کے بعد پھر ہم نے زندہ کر دیا تو وہ آیت پیش کیجئے ورنہ یہ قرآن شریف کا مخالفانہ مقابلہ ہے کہ وہ تو مسیح کا فوت ہو جانا بیان کرے اور آپ اُس کے برخلاف یہ دعوی کریں کہ میسیج مرا نہیں بلکہ زندہ ہے ۔ بعض علماء نہایت سادگی سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اِنّی مُتَوَفِّیک کے آگے جو رَافِعُكَ اور بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ لے قرآن کریم میں آیا ہے اس سے زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ اگر یہ معنے سچ نہیں تو پھر بجز مسیح کے اور کسی کے حق میں رَافِعُكَ کا لفظ کیوں نہیں آیا ؟ مگر میں اس رسالہ ازالہ اوہام میں ان تمام وہموں کا مفصل جواب لکھ چکا ہوں کہ رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اُٹھائے جانا ہے جیسا کہ وفات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث صحیح کے ہر پک مومن کی روح عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور مسیح کے رفع کا جو اس جگہ ذکر کیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح کو دعوت حق میں قریباً نا کامی رہی اور یہودیوں نے خیال کیا کہ یہ کا ذب ہے کیونکہ ضرور تھا کہ بچے مسیح سے پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہو سو انہوں نے اس سے انکار کیا کہ مسیح کا اور نبیوں کی طرح عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہو بلکہ اس کو نعوذ باللہ لعنتی قرار دیا اور لعنتی اس کو کہتے ہیں جس کو عزت کے ساتھ رفع نصیب نہ ہو النساء : ۱۵۹