ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 296

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۶ ازالہ اوہام حصہ اول اور عصر کا وقت۔ اور اتفاقا یہ یہودیوں کی عید فسح کا بھی دن تھا۔ اس لئے فرصت بہت کم تھی اور آگے سبت کا دن آنے والا تھا جس کی ابتدا غروب آفتاب سے ہی سمجھی جاتی تھی کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دن کے ساتھ شامل کر لیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔ تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اُتاری جائیں ۔ مگر اتفاق سے اُسی وقت ایک سخت آندھی آگئی جس سے سخت اندھیرا ہو گیا۔ یہودیوں کو یہ فکر پڑ ۳۸۱ گئی کہ اب اگر اندھیری میں ہی شام ہوگئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہو جائیں گے جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔ سو انہوں نے اس فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اُتار لیا۔ اور یا درکھنا چاہیے کہ یہ بالا تفاق مان لیا گیا ہے کہ وہ صلیب اس قسم کی نہیں تھی جیسا کہ آج کل کی پھانسی ہوتی ہے اور گلے میں رسہ ڈال کر ایک گھنٹہ میں کام تمام کیا جاتا ہے بلکہ اس قسم کا کوئی رسہ گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھوکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے اور پھر بعد اس کے ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب مر گیا مگر خدائے تعالیٰ کی قدرت سے مسیح کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔ عید فسح کی کم فرصتی اور عصر کا تھوڑا سا وقت اور آگے سبت کا خوف اور پھر آندھی کا آجانا ایسے اسباب یکدفعہ پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اُتار لیا گیا اور دونوں چور بھی اُتارے گئے ۔ اور پھر ہڈیوں کے توڑنے کے وقت خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا یہ نمونہ دکھایا کہ بعض سپاہی پلا طوس ۳۸۲ کے جن کو در پردہ خواب کا خطر ناک انجام سمجھایا گیا تھا وہ اس وقت موجود تھے جن کا مدعا یہی تھا کہ کسی طرح یہ بلا مسیح کے سر پر سے مل جائے ایسا نہ ہو کہ مسیح کے قتل ہونے کی وجہ سے وہ خواب کچی ہو جائے جو پلا طوس کی عورت نے دیکھی تھی ۔ اور ایسا نہ ہو کہ پلا طوس کسی