ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 294
۲۹۴ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ اول جس کے تحت کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ جھگڑا کہ کوئی نبی پھانسی ملایا اپنی طبعی (۳۷۷) موت سے مرا بالکل بے فائدہ جھگڑا ہے جس سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا ۔ سو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس پر جوش اور کروفر کے بیان میں کہ کسی یہودی یا عیسائی کو یقینی طور پر مسیح کی مصلوبیت پر ایمان نہیں کونسی بڑی غرض رکھتا ہے؟ اور کونسا بھارا مدعا اس کے زیر نظر ہے جس کے اثبات کے لئے اُس نے دونوں فریق یہود اور نصاریٰ کو خاموش اور لا جواب کر دیا ہے۔ سو یہی مدعا ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے اس عاجز بندہ پر کہ جو مولویوں کی نظر میں کا فراور ملحد ہے اپنے خاص کشف کے ذریعہ سے کھول دیا ہے۔ اے خدا جانم بر اسرارت فدا امیاں را مے دہی فہم و ذکا در جهانت بیچو من امی کجاست در جهالت با مرا نشو و نماست کر مکے بودم مرا کردی بشر من عجب تراز میکے بے پدر اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ مسیح کی عدم مصلوبیت پر انجیل کی رو سے کوئی استدلال پیدا ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی یہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں کہ گو بظاہر صورت مسیح کو صلیب ہی دی گئی ہو (۳۷۸ مگر تحمیل اس فعل کی نہ ہوئی ہو یعنی مسیح اس صلیب کی وجہ سے وفات یاب نہ ہوا ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اناجیل اربعہ قرآن شریف کے اس قول پر کہ ما قتلوه و ما صلبوه صاف شہادت دے رہی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا منشاء ما صلبوہ کے لفظ سے یہ ہر گز نہیں ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا نہیں گیا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اس سے خدائے تعالی نے مسیح کو محفوظ رکھا اور یہودیوں کی طرف سے اس فعل یعنی قتل عمد کا اقدام تو ہوا مگر قدرت اور حکمت الہی سے تکمیل نہ پاسکا۔ اور جیسا کہ انجیلوں میں لکھا ہے یہ واقعہ پیش آیا کہ جب پیلا طوس سے صلیب دینے کے لئے یہودیوں نے مسیح کو جو حوالات میں تھا مانگا تو پلا طوس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مسیح کو چھوڑ دے کیونکہ وہ صاف دیکھتا تھا کہ مسیح بے گناہ ہے لیکن یہودیوں نے