ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 291

روحانی خزائن جلد۳ ۲۹۱ ازالہ اوہام حصہ اول عیسی ابن مریم سچارسول ہوتا تو ہم اس کو پھانسی دینے پر ہرگز قادر نہ ہو سکتے کیونکہ توریت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ مصلوب لعنتی ہوتا ہے ) اب قرآن شریف اس آیت کے بعد فرماتا ہے کہ در حقیقت یہودیوں نے مسیح ابن مریم کو قتل نہیں کیا اور نہ پھانسی دیا بلکہ یہ خیال اُن کے دلوں میں شعبہ کے طور پر ہے یقینی نہیں اور خدائے تعالیٰ نے ان کو آپ ہی شبہ میں ڈال دیا ہے تا اُن کی بیوقوفی اُن پر اور نیز اپنی قادریت اُن پر ظاہر کرے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو اس شک میں پڑے ہوئے ہیں کہ شاید مسیح پھانسی ہی مل گیا ہو اُن کے پاس کوئی یقینی قطعی دلیل اس بات پر نہیں صرف ایک ظن کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور وہ خوب جانتے ہیں کہ انہیں یقینی طور پر اس بات کا علم نہیں کہ مسیح پھانسی دیا گیا بلکہ یقینی امر یہ ہے کہ وہ فوت ہوگیا اور اپنی طبعی موت سے مرا اور (۳۷۲) خدائے تعالیٰ نے اس کو راستباز بندوں کی طرح اپنی طرف اُٹھا لیا۔ اور خدا عزیز ہے اُن کو عزت دیتا ہے جو اس کے ہو رہتے ہیں اور حکیم ہے اپنی حکمتوں سے اُن لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو اس پر تو کل کرتے ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر ( جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے ) ایمان نہ رکھتا ہو قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے جو یح اپنی طبعی موت سے مرگیا یعنی ہم جو پہلے بیان کر آئے ہیں کہ کوئی اہل کتاب اس بات پر دلی یقین نہیں رکھتا کہ در حقیقت مسیح مصلوب ہو گیا ہے کیا عیسائی اور کیا یہودی صرف ظن اور شبہ کے طور پر اُن کے مصلوب ہونے کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ ہمارا بیان صحیح ہے کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ ہاں اس کی موت کے بارہ میں انہیں خبر نہیں کہ وہ کب مرا۔ سواس کی ہم خبر دیتے ہیں کہ وہ مر گیا اور اس کی روح عزت کے ساتھ ہماری طرف اُٹھائی گئی۔ اس جگہ یا در ہے کہ خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں کہ ہمارے (۳۷۳) اس بیان پر جو اُن کے خیالات کے بارہ میں ہم نے ظاہر کیا ایمان نہ رکھتا ہو۔ یہ ایک