ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 290

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۰ ازالہ اوہام حصہ اول پیروان حدیثوں کو پڑھ کر کس قدر شرمندہ ہوں گے۔ یہ بھی مانا گیا اور مسلم میں موجود ہے کہ مسیح کے بعد شریر رہ جائیں گے جن پر قیامت آئے گی ۔ اگر کوئی کا فرنہیں رہے گا تو وہ کہاں سے آجائے گی۔ اب بالطبع یہ سوال پیدا ہو گا کہ اگر آیت متذکرہ بالا کے وہ معنے صحیح نہیں ہیں تو پھر کون سے معنے صحیح ہیں؟ تو اس کے جواب میں واضح ہو کہ صحیح معنے وہی ہیں جو اس مقام کی تمام آیات متعلقہ پر نظر ڈالنے سے ضروری ا تسلیم معلوم ہوتے ہیں جن کے ماننے سے کسی وجہ کا نقص ۳۷۰ لازم نہیں آتا۔ سواوّل وہ تمام آیتیں ذیل میں ذکر کرتا ہوں۔ پھر بعد اس کے وہ حقیقی معنے جو ان آیات کی رو سے ثابت ہوتے ہیں ثابت کروں گا۔ اور آیات یہ ہیں :۔ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا - بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا - وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا - الجزو نمبر 4 سورة النساء ترجمہ:۔ اور یہودی جو خدائے تعالیٰ کی رحمت اور ایمان سے بے نصیب ہو گئے اس کا سبب اُن کے وہ برے کام ہیں جو انہوں نے کئے ۔ منجملہ اُن کے یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ لو ہم نے اس مسیح عیسی ابن مریم کو قتل کر دیا جو رسول اللہ ہونے کا دعوی کرتا تھا ( یہودیوں کا یہ کہنا کہ (۳۷۱) ہم نے عیسی رسول اللہ کوقتل کر دیا اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح کو رسول جانتے تھے کیونکہ اگر وہ اس کو سچا رسول جانتے تو سولی دینے کے لئے کیوں آمادہ ہوتے بلکہ یہ قول اُن کا کہ لو ہم نے اس رسول کو پھانسی دے دیا بطور استہزاء کے تھا اور اس ہنسی ٹھٹھے کی بناء توریت کے اس قول پر تھی جو لکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جائے وہ ملعون ہے یعنی خدائے تعالیٰ کی رحمت اور قرب الہی سے دور ومہجور ہے۔ اور یہودیوں کے اس قول سے مدعا یہ تھا کہ اگر النساء : ۱۵۸ تا ۱۶۰