ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 289

روحانی خزائن جلد۳ ۲۸۹ ازالہ اوہام حصہ اول آسمان سے نازل ہوتا لیکن اب مرنے کے بعد اُن کا ایمان لانا کیوں کر ممکن ہے؟ بعض لوگ نہایت تکلف اختیار کر کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت خدائے تعالیٰ اُن سب اہل کتاب کو پھر زندہ کرے جو مسیح کے وقت بعث سے مسیح کے دوبارہ نزول تک کفر کی حالت میں مرگئے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو کوئی کام (۳۶۸ خدائے تعالیٰ سے غیر ممکن نہیں لیکن زیر بحث تو یہ امر ہے کہ کیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ان خیالات کا کچھ نشان پایا جاتا ہے اگر پایا جاتا ہے تو کیوں وہ پیش نہیں کیا جاتا ؟۔ بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہو کر دبی زبان سیہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو سیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہو جائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تمیم کا دے رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے۔ اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ علاوہ اس کے یہ معنے بھی جو پیش کئے گئے ہیں بداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ (۳۶۹) صحیح کے دم سے اُس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے اور کچھ ضرور نہیں کہ ہم بار بار ان حدیثوں کو نقل کریں۔ اسی رسالہ میں اپنے موقعہ پر دیکھ لینا چاہیے ماسوا اس کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ مسلمہ ہے کہ دجال بھی اہل کتاب میں سے ہی ہوگا اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ اب میں اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس خیال کے ر حاشیه میکی دم سے مرجانے کے حقیقی معنے ہم بیان کر آئے ہیں کہ اس سے مراد حجبت اور ہند کی رو سے مرنا ہے۔ ورنہ دور از ادب بات ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ کوئی زہر ناک اور وبائی مادہ مسیح کے منہ سے نکل کر اور ہوا سے ملکر کمزور کا فروں کو مار یگا مگر دجال کو مار نہیں سکے گا۔ منہ