ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 288

۱۳۶۶ روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۸ ازالہ اوہام حصہ اول بہشت میں ہی موجود تھا۔ جاننا چاہیے کہ تمام انبیاء اور صدیق مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتے (۳۲) میں اور ایک نورانی جسم بھی انہیں عطا کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی بیداری میں راستبازوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے۔ پھر اگر عزیز کو خدائے تعالیٰ نے اسی طرح زندہ کر دیا ہو تو تعجب کیا ہے لیکن اس زندگی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ زندہ ہو کر بہشت سے خارج کئے گئے یہ عجیب طور کی نادانی ہے بلکہ اس زندگی سے تو بہشت کی تجلی زیادہ تر بڑھ جاتی ہے۔ (۴) سوال ۔ قرآن شریف کی آیت مندرجہ ذیل مسیح ابن مریم کی زندگی پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے وَاِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ لے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں گے۔ سواس آیت کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح اس وقت تک جیتا ر ہے جب تک کہ تمام اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں۔ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ سائل کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس نے اپنے دل میں یہ خیال کر لیا ہے کہ آیت فرقانی کا یہ منشاء ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب کے فرقوں کا اُس پر ۳۶۷) ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنے ہیں جیسا کہ سائل سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں حالانکہ یہ خیال بداہت باطل ہے۔ ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کا فر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں اور خدا جانے آئندہ بھی کس قدر کفران کی وجہ سے اس آتشی تنور میں پڑیں گے اگر خدائے تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ وہ تمام اہل کتاب فوت شدہ مسیح کے نازل ہونے کے وقت اُس پر ایمان لاویں گے تو وہ اُن سب کو اُس وقت تک زندہ رکھتا جب تک کہ مسیح النساء : ١٢٠