ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 283
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۳ ازالہ اوہام حصہ اول پہلا درجہ جو ایک ادنیٰ درجہ ہے اُس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان اس عالم سے رخصت ہو کر اپنی خواب گاہ قبر میں جالیتا ہے اور اس درجہ ضعیفہ کو استعارہ کے طور پر احادیث نبویہ میں کئی پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ منجملہ اُن کے ایک یہ بھی پیرا یہ ہے کہ میت عبد صالح کے لئے قبر میں جنت کی طرف ایک کھڑ کی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے وہ جنت کی باغ و بہار دیکھتا ہے اور اس کی دلربا ہوا اسے متمتع ہوتا ہے اور اس کھڑکی کی کشادگی بحسب مرتبہ ایمان و عمل اس میت کے ہوتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ جو ایسے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ اپنی جان عزیز کو محبوب حقیقی کی راہ میں فدا کر دیتے ہیں جیسے شہداء یا وہ صدیق لوگ جو شہداء سے بھی بڑھ کر آگے قدم رکھتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف بہشت کی طرف کھڑ کی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قولی کے ساتھ بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں مگر پھر بھی قیامت کے دن سے پہلے (۳۵۸ اکمل اور اتم طور پر لذات جنت حاصل نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی اس درجہ میں میت خبیث کے لئے دوزخ کی طرف قبر میں ایک کھڑ کی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے دوزخ کی ایک جلانے والی بھاپ آتی رہتی ہے اور اُس کے شعلوں سے ہر وقت وہ خبیث روح جلتی رہتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنی کثرت نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنا فی الشیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلی تعلقات اپنے مولی حقیقی سے توڑ دیتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑ کی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قومی کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے مِمَّا خَطَيْتِ هُم أُغْرِقُوا فَأَدْخِلُوْا نَارًا سورہ نوح مگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر عقوبات جہنم کا نوح : ٢٩