ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 282

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۲ ازالہ اوہام حصہ اول قسموں کی آیات پر نظر ڈالنے سے تعارض معلوم ہوتا ہے قرآن شریف اور احادیث میں ارواح طیبہ کا بہشت میں مرنے کے بعد داخل ہونا تو بدیہی اور کھلے کھلے طور پر ثابت ہے مگر ایک بھی ایسی آیت یا حدیث نہیں ملے گی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یوم الحساب میں بہشتی لوگ بہشت سے باہر نکال دئے جائیں گے بلکہ حسب وعدہ الہی بہشت میں ہمیشہ رہنا بہشتیوں کا جابجا قرآن شریف اور احادیث میں مندرج ہے۔ ہاں دوسری طرف یہ بھی ثابت ہے کہ قبروں میں سے مردے جی اٹھیں گے اور ہر ایک شخص حکم سننے کے لئے خدائے تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو گا اور ہر یک شخص کے عمل اور ایمان کا اندازہ الہی ترازو سے اُس پر ظاہر کیا جائے گا تب جو لوگ بہشت کے لائق ہیں بہشت میں داخل کئے جائیں گے اور جو دوزخ میں جلنے کے سزاوار ہیں وہ دوزخ میں ڈال دئے جائیں گے۔ ات واضح ہو کہ اس تعارض کے دور کرنے کے لئے جو آیات اور احادیث میں با ہم واقعہ ہے یہ راہ نہیں ہے کہ یہ اعتقاد ظاہر کیا جائے کہ موت کے بعد تمام روحیں ایک فتا کی حالت میں رہتی ہیں۔ نہ کہ کسی قسم کی اُن کو راحت حاصل ہوتی ہے اور نہ کسی نوع کی عقوبت میں گرفتار ہوتی ہیں اور نہ جنت کی ٹھنڈی ہوا اُن کو پہنچتی ہے اور نہ دوزخ کی بھاپ ان کو جلاتی ہے کیونکہ ایسا اعتقاد فصوص بینہ فرقان اور حدیث سے بکلی مغائر ہے۔ میت کے لئے جو دعا کی جاتی ہے یا صدقات کئے جاتے ہیں اور میت کی نیت سے مساکین کو طعام کھلایا جاتا ہے یا کپڑا دیا جاتا ہے اگر اس درمیانی زمانہ میں جو قبل از حشر اجساد ہے جنت اور جہنم کا میت سے کچھ علاقہ نہیں تو یہ سب اعمال ایک مدت دراز تک بطور عبث کے متصور ہوں گے اور یہ ماننا پڑے گا که اس درمیانی زمانہ میں میت کو راحت اور رنج اور ثواب اور عقاب سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا حالانکہ ایسا گمان تعلیم نبوی سے سراسر مخالف ہے۔ (۳۵۷) پس وہ واقعی امر جس سے ان دونوں قسم کی آیات کا تعارض دور ہوتا ہے یہ ہے کہ جنت اور جہنم تین درجوں پر منقسم ہے۔