ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 281
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۱ ازالہ اوہام حصہ اول سعید لوگ بہشت سے باہر نہیں ہو سکتے اور نہ ان چیزوں کے فساد سے بہشت میں کچھ فساد ہوسکتا ہے کیونکہ بہشت اُن کے لئے ایک ایسی عطا ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے محروم نہیں رہ سکتے ۔ ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی بہشتیوں کے ہمیشہ بہشت میں رہنے کا جا بجا ذکر ہے اور سارا قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - أوليكَ أَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا (٣٥٢) خلدون کے وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہو رہا ہے قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يُلَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَ لِى رَبِّى وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِینَ کے اور دوسری یہ آیت فَادْ خُلى فى عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي " اور تیسری یہ آیت وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ - فَرِحِيْنَ بِمَا أَللهُمُ اللهُ مِن فَضْلِم ۵۔ اور احادیث میں تو اس قدر اس کا بیان ہے کہ جس کا باستیفاء ذکر کرنا موجب تطویل ہوگا بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چشم دید ماجرا بیان فرماتے ہیں کہ ” مجھے دوزخ دکھلایا گیا تو میں نے اکثر اُس میں عورتیں دیکھیں اور بہشت دکھلایا گیا تو میں نے اکثر اُس میں فقراء دیکھئے“۔ اور انجیل لوقا باب ۱۶ میں ایک قصہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ لعزر جو ایک غریب آدمی تھا مرنے کے بعد ابر ھام کی گود میں بٹھایا گیا یعنی نعیم جنت سے متمتع ہوا لیکن ایک دولت مند جو انہیں دنوں میں (۳۵۵) مرا دوزخ میں ڈالا گیا اور اس نے لعزر سے ٹھنڈا پانی مانگا مگر اُسے دیا نہ گیا۔ ماسوا اس کے ایسی آیات بھی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں جو حشر اجساد ہوگا اور حساب کے بہشتی بہشت میں داخل کئے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور بظاہر ان دونوں البقرة : ٢٦ البقرة :٨٣ ٣ ياس : ۲۷، ۲۸ الفجر : ۳۰ ۳۱ ه ال عمران : ۱۷۱۱۷۰