ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 278

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۸ ازالہ اوہام حصہ اول دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے در حقیقت خدا تعالیٰ کے پاک کلام سے روگردانی ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر مسیح اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ ہے تو خدا تعالیٰ کا آیت مدوحہ بالا میں یہ دلیل پیش کرنا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر فوت ہو گیا تو اس کی نبوت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ابتدا سے سارے نبی مرتے ہی آئے ہیں بالکل نکمی اور لغو بلکہ خلاف واقعہ مظہر جائے گی اور خدائے تعالیٰ کی شان اس سے بلند ہے کہ جھوٹ بولے یا خلاف واقعہ کہے۔ ۳۴۹ اب ظاہر ہے کہ جبکہ مسیح فوت ہو چکا تو اب وہ موت کے بعد آ نہیں سکتا اور نہ اُس کے مرنے کے بعد قرآن شریف میں کوئی خبر اُس کے پھر زندہ ہونے کی دی گئی ہے پس بلا شبہ آنے والا مسیح اُس کا کوئی مثیل ہوگا۔ ماسوا اس کے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پاک احادیث میں اس بات کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ آنے والا مسیح در اصل مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ اس کا مثیل ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانے والے مسیح کا اور حلیہ بتلایا ہے اور آنے والے مسیح کا اور حلیہ ظاہر کیا ہے اور مسیح گذشتہ کی نسبت قطعی طور پر کہا ہے کہ وہ نبی تھا لیکن آنے والے مسیح کو امتی کر کے پکارا ہے جیسا کہ حدیث امامکم منکم سے ظاہر ہے اور حدیث عـلـمـاء امتـى كـانبياء بني اسرائیل میں اشارہ مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی ہے۔ چنانچہ اس کے مطابق آنے والا مسیح محدث ہونے کی وجہ سے مجازاً نبی بھی ہے۔ پس اس سے زیادہ اور کیا بیان ہوگا۔ ماسوا اس کے حضرت مسیح ابن مریم جس کی روح اُٹھائی گئی برطبق آیت کریمہ ليَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي بسنت میں داخل ہو چکی ۔ اب کیوں کر پھر اس غم کدہ میں آجائیں گو اس کو ہم نے مانا کہ وہ کامل درجہ دخول بہشت کا جو جسمانی اور روحانی دونوں طور پر ہوگا وہ حشر اجساد کے بعد ہر یک مستحق کو عطا کیا جائے گا مگر اب بھی جس قدر بہشت کی لذات الفجر : ۲۸ تا ۳۱