ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 277

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۷ ازالہ اوہام حصہ اول کی کہ اس جگہ رافعک مقدم اور انی متوفیک مؤخر ہے ۔ مگر ناظرین جانتے ہیں کہ خدائے تعالی کے ابلغ واضح کلام میں یہ کس قدر بے جا اور اس کلام کی کسر شان کا موجب ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ نے جو حضرت مسیح کے حق میں یہ فرمایا کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ مسیح فوت نہیں ہوا۔ کیا مرنے کے لئے یہی ایک راہ ہے کہ انسان قتل کیا جائے یا صلیب پر کھینچا جائے ؟ بلکہ اس نفی سے مدعا اور مطلب یہ ہے کہ توریت استثناء باب ۲۱ آیت ۲۳ میں لکھا ہے کہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے۔ اور یہود جنھوں نے اپنے زعم میں حضرت عیسی کو پھانسی دے دیا تھا وہ (۳۴۷) به تمسک اس آیت کے یہ خیال رکھتے تھے کہ مسیح ابن مریم نہ نبی تھا اور نہ مقبول الہی کیونکہ وہ پھانسی دیا گیا اور توریت بیان کر رہی ہے کہ جو شخص پھانسی دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ سوخدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ اصل حقیقت ظاہر کر کے اُن کے اس قول کو ر ڈ کرے سو اس نے فرمایا کہ مسیح ابن مریم در حقیقت مصلوب نہیں ہوا اور نہ مقتول ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا۔ (۲) سوال۔ یہ کہاں اور کس کتاب میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم جس کے آنے کا وعدہ دیا۔ گیا ہے وہ در حقیقت مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ کوئی اس کا مثیل مراد ہے؟ جواب ۔ اس بات کو پہلے تو قرآن شریف ہی بتصریح ذکر کر چکا ہے جبکہ اس نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کوئی نبی نہیں آیا جو فوت نہ ہوا ہو ۔ مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَا جَعَلْنَا بَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ، وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خُلِدِينَ ۔ (۳۴۸) اب ظاہر ہے کہ باوجود ان تمام آیات کے جو بآواز بلند مسیح کی موت پر شہادت دے رہی ہیں پھر بھی مسیح کو زندہ خیال کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ بر خلاف مفہوم آیت وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَام صحیح جسم خاکی کے ساتھ ا النساء : ۱۵۸ آل عمران : ۱۴۵ الانبياء : ۳۵ الانبياء :٩