ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 276
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۶ ازالہ اوہام حصہ اول بلند تر ہے اور ان کی روح مسیح کی روح کی طرح دوسرے آسمان میں نہیں اور نہ حضرت موسیٰ کی روح کی طرح چھٹے آسمان میں بلکہ سب سے بلند تر ہے اس کی طرف معراج کی حدیث بتصریح دلالت کر رہی ہے بلکہ معالم النبوۃ میں بصفحہ ۵۱۷ یہ حدیث لکھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں چھٹے آسمان سے آگے گزر گئے تو حضرت موسیٰ نے کہا رَبِّ لَمُ أَظُنُّ ۳۳۵) أَنْ يُرْفَعَ عَلَى اَحَدٌ یعنی اے میرے خداوند! مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ کوئی نبی مجھ سے اوپر اُٹھایا جائے گا اور اپنے رفع میں مجھ سے آگے بڑھ جائے گا۔ اب دیکھو کہ رفع کا لفظ محض تحقق درجات کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور آیت موصوفہ بالا کے احادیث نبویہ کی رو سے یہ معنے کھلے کہ ہر یک نبی اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگر چہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہومگر پھر بھی اُس آسمان سے اُس کا تعلق ہوتا ہے جو اس کی روح کے لئے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اُس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لئے حد رفع مقرر کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ حدیث جس میں عام طور پر موت کے بعد روحوں کے اٹھائے جانے کا ذکر ہے اس بیان کی مؤید ہے اور چونکہ یہ بحث نہایت صریح اور صاف ہے اور کسی قدر ہم پہلے لکھ بھی چکے ہیں اس لئے کچھ ضرورت نہیں کہ اس کو زیادہ طول دیا جائے۔ اس مقام میں یہ بھی بیان کرنے کے لائق ہے کہ بعض مفسروں نے جب دیکھا کہ در حقیقت انی متوفیک میں توفی کے معنے وفات دینے کے ہیں اور بعد اس کے جو رافعک التی واقع ہے وہ بقرینہ صریحہ وفات کے روح کے رفع پر دلالت کر رہا ہے تو انہیں یہ فکر پڑی کہ یہ صریح ہماری رائے کے مخالف ہے اس لئے انہوں نے گویا اپنے تئیں نظم فرقانی کا مصلح قرار دے کر یا اپنے لئے استادی کا منصب تجویز کر کے یہ اصلاح