ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 273

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۳ ازالہ اوہام حصہ اول اُٹھایا بھی وہی جائے گا۔ یہ تو نہیں کہ قبض کیا جائے روح اور پھر جسم کو اٹھایا جائے ۔ ایسے معنے تو قرآن شریف کی تمام آیات اور منشائے ربانی سے صریح صریح مخالف ہیں ۔ قرآن شریف نیند کے مقامات میں بھی جو توفی کے لفظ کو بطور استعارہ استعمال کرتا ہے اس جگہ بھی صاف فرماتا ہے کہ ہم روح کو قبض کر لیتے ہیں اور جسم کو بے کار چھوڑ دیتے ہیں۔ اور موت اور نیند میں صرف اتنا فرق ہے کہ موت کی حالت میں ہم روح کو قبض کر کے پھر چھوڑتے نہیں بلکہ اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ اور نیند کی حالت میں ایک مدت تک روح کو قبض کر کے پھر اس روح کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر وہ جسم سے تعلق پکڑ لیتی ہے۔ اب سوچنا چاہیے کہ کیا یہ بیان قرآن شریف کا اس بات کے سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ خدائے تعالیٰ کو جسم کے قبض کرنے اور اٹھانے سے دونوں حالتوں موت اور نیند میں کچھ سروکار نہیں بلکہ جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے یہ جسم خاک سے پیدا کیا گیا ہے اور آخر خاک میں ہی داخل (۳۴۰ ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ ابتدائے دنیا سے صرف روحوں کو قبض کرتا آیا ہے اور روحوں کو ہی اپنی طرف اُٹھاتا ہے اور جب کہ یہی امر واقعی اور یہی صحیح اور سچ ہے تو اس صورت میں اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ انی متوفیک کے یہی معنے ہیں کہ میں تیری روح کو اسی طور سے قبض کرنے والا ہوں جیسا کہ سونے والے کی روح قبض کی جاتی ہے تو پھر بھی جسم کو اس قبض سے کچھ علاقہ نہیں ہو گا اور اس طور کی تاویل سے اگر کچھ ثابت ہوگا تو یہ ہوگا کہ حضرت مسیح کی روح خواب کے طور پر قبض کی گئی اور جسم اپنی جگہ زمین پر پڑا رہا اور پھر کسی وقت روح جسم میں داخل ہوگئی۔ اور ایسے معنے سراسر باطل اور دونوں فریق کے مقصد کے مخالف ہیں کیونکہ صرف کچھ عرصہ کے لئے حضرت مسیح کا سونا اور پھر جاگ اُٹھنا ہماری اس بحث سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا۔ اور قرآن کریم کی آیت ممدوحہ بالا صاف بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ حضرت مسیح کی روح جو قبض کی گئی تو پھر سونے والے کی روح کی طرح جسم کی طرف نہیں چھوڑی گئی بلکہ خدائے تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اُٹھا لیا جیسا کہ الفاظ