ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 269
روحانی خزائن جلد ۳ نام سورة زمر الانعام ۲۶۹ الجزو آیت قرآن کریم ازالہ اوہام حصہ اول ۲۴ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى هُوَ الَّذِي يَتَوَفُكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى * اب ظاہر ہے کہ ان تمام مقامات قرآن کریم میں توفی کے لفظ سے موت اور قبض روح ہی مراد ہے اور دو مؤخر الذکر آیتیں اگر چہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں مگر در حقیقت ان دونوں آیتوں میں بھی نیند نہیں مراد لی گئی بلکہ اس جگہ بھی اصل مقصد اور مدعاموت ہے اور یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہی ہے اور جیسی موت میں روح قبض کی جاتی ہے نیند میں بھی روح قبض کی جاتی ہے۔ سو ان دونوں مقامات میں نیند پر توفی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینہ نوم استعمال کیا گیا ہے یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیا گیا ہے تاہر ایک شخص سمجھ لیوے کہ انجگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیں ہے بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔ یہ بات ۳۳۳ ادنی ذی علم کو بھی معلوم ہوگی کہ جب کوئی لفظ حقیقت مسلمہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایسے معنوں پر جن کے لئے وہ عام طور پر موضوع یا عام طور پر مستعمل ہو گیا ہے تو اس جگہ متکلم تو کے لئے کچھ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کی شناخت کے لئے کوئی قرینہ قائم کرے کیونکہ وہ اُن معنوں میں شائع متعارف اور متبادر الفہم ہے لیکن جب ایک متکلم کسی لفظ کے معانی حقیقت مسلمہ سے پھیر کر کسی مجازی معنی کی طرف لے جاتا ہے تو اس جگہ صراحتا یا کنایت یا کسی دوسرے رنگ کے پیرا یہ میں کوئی قرینہ اس کو قائم کرنا پڑتا ہے تا اس کا سمجھنا مشتبہ نہ ہو اور اس بات کے دریافت کے لئے کہ متکلم نے ایک لفظ بطور حقیقت مسلمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اور استعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت مسلمہ کو ایک متبادر اور شائع و متعارف لفظ سمجھ کر اس فہرست میں سورۃ یونس آیت نمبر ۱۰۵ الَّذِي يَتَوَفكُمْ ) درج ہونے سے رہ گئی ہے ۔ (ناشر)