ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 267

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶۷ ازالہ اوہام حصہ اول خیال سراسر فاسد ہے مومن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے بلکہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض دوسرے مقامات کے لئے خود مفسر اور شارح ہیں۔ اگر یہ بات سچ نہیں کہ میسج کے حق میں جو یہ آیتیں ہیں کہ انی متوفیک اور فلما توفیتنی یہ در حقیقت مسیح کی موت پر ہی دلالت کرتی ہیں بلکہ ان کے کوئی اور معنے ہیں تو اس نزاع کا فیصلہ قرآن شریف سے ہی کرانا چاہیے۔ اور اگر قرآن شریف مساوی طور پر کبھی اس لفظ کو موت کے لئے استعمال کرتا ہے اور کبھی ان معنوں کے لئے جو موت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے تو محل متنازعہ فیہ میں مساوی طور پر احتمال رہے گا اور اگر (۳۲۹) ایک خاص معنے اغلب اور اکثر طور پر مستعملات قرآنی میں سے ہیں تو انہی معنوں کو اس مقامِ بحث میں ترجیح ہوگی اور اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے گل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا ہے تو محل مجوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا کہ جو معنے توفی کے سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنے اس جگہ بھی مراد ہیں کیونکہ یہ بالکل غیر ممکن اور بعید از قیاس ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ میں جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے ایسے شاذ اور مجہول الفاظ استعمال کرے جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوئے ۔ اگر وہ ایسا کرے تو گویا وہ خلق اللہ کو آپ ورطۂ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس نے ہرگز ایسا نہیں کیا ہوگا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے قرآن کریم کے تیس مقام میں تو ایک لفظ کے ایک ہی معنے مراد لیتا جاوے اور پھر دو مقام میں جو زیادہ ۲۳ تر محتاج صفائی بیان کے تھے کچھ اور کا اور مراد لے کر آپ ہی خلق اللہ کو گمراہی میں ڈال دے۔ اب اے ناظرین! آپ پر واضح ہو کہ اس عاجز نے اول سے آخر تک تمام وہ الفاظ جن ۳۳۰ میں توفی کا لفظ مختلف صیغوں میں آگیا ہے قرآن شریف میں غور سے دیکھے تو صاف طور سے کھل گیا کہ قرآن کریم میں علاوہ محل متنازعہ فیہ کے یہ لفظ تیئیس جگہ لکھا ہے اور ہر ایک جگہ موت اور قبض روح کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ایک بھی ایسا مقام نہیں