ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 266

۳۲۷ روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶۶ ازالہ اوہام حصہ اول پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ عالم اور صاحب عقل ہونے کے بعد سرا سر نادان بچے کی طرح بن جاتے ہیں اور تمام عمر کا آموختہ بیک دفعہ سب بھول جاتا ہے۔ اب چونکہ خدائے تعالیٰ نے طرز حیات کے بارے میں بنی آدم کی صرف دو گروہ میں تقسیم محدود کر دی تو بہر حال حضرت مسیح ابن مریم خدائے تعالی کے تمام خا کی بندوں کی طرح اس تقسیم سے باہر نہیں رہ سکتے یہ حکماء کا قانونِ قدرت نہیں جو کوئی اس کو رد کر دے گا یہ تو سنت اللہ ہے جس کو خود اللہ جل شانہ نے تصریح سے بیان فرما دیا ہے۔ ستو اس تقسیم الہی کی رو سے لازم آتا ہے کہ یا تو حضرت مسیح مِنكُم مَّنْ يُتَوَفَّی میں داخل ہوں اور وفات پا کر بہشت بریں میں اُس تخت پر بیٹھے ہوں جس کی نسبت انہوں نے آپ ہی انجیل میں بیان فرمایا ہے اور یا اگر اس قدر مدت تک فوت نہیں ہوئے تو زمانہ کی تاثیر سے اس ارذل عمر تک پہنچ گئے ہوں جس میں بباعث بیکاری حواس اُن کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ اور جو خاص طور پر مسیح کے فوت ہو جانے پر آیات بینات دلالت کر رہی ہیں کچھ ضروری نہیں کہ ہم ان کو بار بار ذکر کریں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم اس جماعت مرفوعہ سے الگ ہے جو دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو کر خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائی گئی ہے۔ تو ان میں جو عالم آخرت میں پہنچ گئے ہر گز شامل نہیں ہوسکتا بلکہ مرنے کے بعد پھر شامل ہوگا اور اگر یہ بات ہو کہ اُن میں جاملا اور بموجب آیت فَادْخُلِي فِي عِبدِى له ان فوت شده بندوں میں داخل ہو گیا تو پھر انہیں میں سے شمار کیا جاوے گا۔ اور معراج کی حدیث سے ۳۲۸ صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اُن فوت شدہ نبیوں میں جاملا اور بیٹی نبی کے پاس اس کو مقام ملا ۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ معنے اس آیت کے کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ہے یہ ہوں گے کہ انی متوفیک و رافعک الی عبادی المتوفين المقربين و ملحقك بالصلحین ۔ سو نظمند کے لئے جو متعصب نہ ہو اسی قدر کافی ہے کہ اگر مسیح زندہ ہی اُٹھایا گیا تو پھر مُردوں میں کیوں جا گھسا ۔ ہاں اس قدر ذکر کرنا اور بھی ضروری ہے کہ جیسے بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ آیات ذو معنیین ہیں یہ الفجر: ۳۰ ۲ آل عمران: ۵۶