ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 265
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶۵ ازالہ اوہام حصہ اول عام اور خاص دونوں طور پر مسیح کا فوت ہو جانا بیان فرمایا ہے عام طور پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى اَعْقَابِكُمُ لا یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے ہر یک رسول ۳۲۵۶ ) جو آیا وہ گذر گیا اور انتقال کر گیا اب کیا تم اس رسول کے مرنے یا قتل ہو جانے کی وجہ سے دین اسلام چھوڑ دو گے؟ اب دیکھو یہ آیت جو استدلالی طور پر پیش کی گئی ہے صریح دلالت کرتی ہے کہ ہر یک رسول کو موت پیش آتی رہی ہے خواہ وہ موت طبعی طور پر ہو یا قتل وغیرہ سے اور گذشتہ نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں جو مرنے سے بچ گیا ہو۔ سو اس جگہ ناظرین ببداہت سمجھ سکتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح جو گذشتہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں اب تک مرے نہیں بلکہ زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے تو اس صورت میں مضمون اس آیت کا جو عام طور پر ہر یک گذشتہ نبی کے فوت ہونے پر دلالت کر رہا ہے صحیح نہیں ٹھہر سکتا بلکہ یہ استدلال ہی لغو اور قابل جرح ہوگا۔ پھر دوسری آیت جو عام استدلال کے طریق سے صحیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت ہے وَمَا جَعَلْتُهُمْ جَسَدً الَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ " یعنی کسی نبی کا ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے کا محتاج نہ ہو اور وہ سب مر گئے کوئی اُن میں سے باقی نہیں۔ ایسا ہی عام طور پر یہ بھی فرمایا وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَأَبِنْ مِتَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ - كُلُّ نَفْسٍ ذَابِقَةُ الْمَوْتِ پھر تیسری آیت جو عام استدلال کے طریق سے مسیح کے فوت ہو جانے پر دلالت (۳۲۶) کرتی ہے یہ آیت ہے وَمِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا سورة الحج الجزو ۱۷ ۔ یعنی اے بنی آدم ! تم دوگر وہ ہو ۔ ایک وہ جو پیرانہ سالی سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں یعنی پیر فرتوت ہو کر نہیں مرتے بلکہ پہلے ہی مر جاتے ہیں ۔ دوسرا وہ گروہ جو اس قدر بڑھے ہو جاتے ہیں جو ایک ارذل حالت زندگی کی جو قابل نفرت ہے اُن میں ال عمران : ۱۴۵ ۲ الانبياء: ۹ الانبياء : ۳۶،۳۵ الحج :