ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 262
۳۱۸ ۲۶۲ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ اول الہام ہوا قلنا یا نار کونی بردًا وسلامًا مگر میں اس کے معنے نہ سمجھا پھر الہام ہوا قلنا ۳۲۰ یا صبر کونی بردا و سلا ما تب میں سمجھ گیا کہ نار سے مراد اس جگہ صبر ہے اور پھر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے الہام ہوا رب ادخلني مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق ۳۲) اور اس سے مراد اصلی معنی نہیں تھے بلکہ یہ مراد تھی کہ مولوی صاحب کو ہستان ریاست کابل سے پنجاب کے ملک میں بزیر سایہ سلطنت برطانیہ آجائیں گے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے الہامات میں کئی آیات فرقانی لکھی ہیں اور اُن کے اصلی معنے چھوڑ کر کوئی اور معنے مراد لئے ہیں۔ لیکن یہ عذر با لکل فضول ہے اور صرف اس حالت میں ماننے کے لائق ہے کہ جب یہ اعتقا در کھا جائے کہ ان پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الترب کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہو جاتی تھی۔ پس اگر اتنی ہی بات ہے تو ہم اس کو پہلے سے تسلیم کر چکے ہیں ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ عمل التقرب کے ذریعہ سے پھونک کی ہوا میں وہ قوت پیدا ہو جائے جو اس دخان میں پیدا ہوتی ہے جس کی تحریک سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ صانع فطرت نے اس مخلوقات میں بہت کچھ خواص مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ ایک شریک صفات باری ہونا ممکن نہیں اور کونسی صنعت ہے جو غیر ممکن ہے؟ ۔ اور اگر یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اُن پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا ہو جاتی تھی اور بی بیچ اُن میں ہڈیاں گوشت پوست خون وغیرہ اعضا بن کر جان پڑ جاتی تھی تو اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑیگا کہ ان میں جاندار ہونے کے تمام لوازم پیدا ہو جاتے ہوں گے اور وہ کھانے کے بھی لائق ہوتے ہونگے اور اُن کی نسل بھی آج تک کروڑ با پرندے زمین پر موجود ہوں گے اور کسی بیماری سے یا شکاری کے ہاتھ سے مرتے ہوں گے تو ایسا اعتقاد بلاشبہ شرک ہے۔ بہت لوگ اس وسوسہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کسی نبی کے دعا کرنے سے کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی جہاد جاندار بن جائے تو اس میں کونسا شرک ہے۔ ایسے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ اس جگہ دعا کا کچھ ذکر نہیں اور دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہوتا ہے اور دعا پر جو فعل مترتب ہوتا ہے وہ فعل الہی ہوتا ہے نبی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا اور نبی خواہ دعا کرنے کے بعد فوت ہو جائے نبی کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی اس میں کچھ حاجت نہیں ہوتی ۔ غرض نبی کی طرف سے صرف دعا ہوتی ہے جو کبھی قبول اور کبھی رو بھی ہو جاتی ہے لیکن اس جگہ وہ صورت نہیں۔ اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے ۳۱۹