ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 261

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶۱ ازالہ اوہام حصہ اول ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالتِ زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف بلاریب غیر محدو د معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضرورات لاحقہ کا کامل طور پر متکفل ہے۔ اب یہ بھی یادر ہے کہ عادت اللہ ہر یک کامل ملہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائبات مخفیہ ۳۱۸ فرقان اس پر ظاہر ہوتے رہے ہیں بلکہ بسا اوقات ایک مہم کے دل پر قرآن شریف کی آیت الہام کے طور پر القا ہوتی ہے اور اصل معنی سے پھیر کر کوئی اور مقصود اس سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ (۳۹) مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ مجھے ایک مرتبہ اور ان صفات خاصہ خدائے تعالے میں سے ہے جو کسی حالت میں بشر کومل نہیں سکتیں ۔ معجزہ کی (۳۱۶) حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال اور گمان سے باہر اور امید سے بڑھکر ایک اپنے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کے بحجز اور مغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اور درخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات وحدانیت و تقدس و کمال کے منافی و مغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یا کارسازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔ اب ہر یک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ یہ صورت ہرگز معجزہ کی صورت نہیں کہ خدائے تعالے دائی طور پر ایک شخص کو اجازت اور اذن دیدے کہ تو مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارا کر وہ حقیقت میں جانور بن جایا کریں گے اور ان میں گوشت اور ہڈی اور خون اور تمام اعضا جانوروں کے بن ۳۱۷ جائیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالے پرندوں کے بنانے میں اپنی خالقیت کا کسی کو وکیل ٹھہر سکتا ہے تو تمام امور خالقیت میں وکالت تامہ کا عہدہ بھی کسی کو دے سکتا ہے۔ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کی صفات میں شریک ہونا جائز ہوگا گو اس کے حکم اور اذن سے ہی سہی اور نیز ایسے خالقوں کے سامنے اور فتشابه الخلق عليهم کی مجبوری سے خالق حقیقی کی معرفت مشتبہ ہو جائے گی ۔ غرض یہ اعجاز کی صورت نہیں یہ تو خدائی کا حصہ دار بنانا ہے۔ بعض دانشمند شرک سے بچنے کے لئے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے وہ بہت دیر تک جیتے نہیں تھے ان کی عمر چھوٹی ہوتی تھی تھوڑی مسافت تک پرواز کر کے پھر گر کر مر جاتے تھے۔