ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 258
۳۱۰ روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۸ ازالہ اوہام حصہ اول بر ہمو ہو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو ۔ قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو اور میں اس سے پہلے لکھ ۳۲ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں اُن کا نام و نشان نہیں پایا جاتا ۔ مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالی کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان الجو بہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن و حکم الہی اختیار کیا تھا ورنہ در اصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُر اخاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی اُن روحانی تا شیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں اس کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب نا کام کے رہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا ہونے کیلئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزار ہا بندگانِ خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچادیا اور اصلاح خلق اور اندرونی تبدیلیوں میں وہ ید بیضا دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی ۔ حضرت مسیح کے عمـل التـرب سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف