ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 257
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۷ ازالہ اوہام حصہ اول اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتاوہ علم قرآن سے سخت (۳۸) بے نصیب ہے ومن لم يؤمن بذالك الاعجاز فوالله ما قدر القرآن حق قدره وما عرف الله حق معرفته وما وقر الرسول حق توقيره اے بندگان خدا ! یقیناً یا درکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعوی کرتا ہے اس (۳۰۹) کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے کوئی شخص ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ملنا اور جنبش کرنا بھی بہا یہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ در حقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیے کہ سلپ امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل القرب کی شاخیں ہیں ۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلپ امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج ، مبروس، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔ جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ (۳۰۸) میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی و سہر وردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گذرے ہیں کہ صد با بیماروں کو اپنے بیمین ویسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی ۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پر ہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی اليسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے (۳۰۹) گوالیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے کیونکہ السیع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں یعنی وہ دو چور جو سیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ