ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 256

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۶ ازالہ اوہام حصہ اول ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر یک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا ۳۰۲ امریکن یا کسی اور ملک کا ہوملزم و ساکت ولا جواب کر سکتے ہیں ۔ وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں ۳۰۷) اگر قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ نامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر یک خواندہ نا خواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل القرب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے ۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا جو انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اُسے گرم کیا کہ اس نے چارپایوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہوئے اور اس کی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سویقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ب شخص اس فن میں کامل مشتق رکھنے والا مٹی کا ایک پرند بنا کر اس کو پرواز کرتا ہوا بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہاء ہے۔ اور جبکہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعہ سے ایک جہاد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا جانور جو مٹی بالکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور عمـل التـرب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جائے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی بازو کی طرح اُس کو جنبش میں لاتی ہے۔ اور یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے اسے آجکل با روڈ“ لکھا جاتا ہے (ناشر) ایک تحف