ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 250

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۰ ازالہ اوہام حصہ اول اب مجھے مولوی صاحب کے اس بیان پر کہ اس عاجز کے مثیل مسیح ماننے سے صحیح بخاری و صحیح مسلم بے کار ہو جائیں گی دینی عقائد میں ابتری پڑ جائے گی سخت تعجب ہے کیونکہ میں نے اب ان رسالوں میں کوئی نئی بات تو نہیں لکھی۔ یہ تو وہی پرانی باتیں ہیں جو میں اس سے پہلے براہین احمدیہ میں لکھ چکا ہوں جن کی نسبت مولوی صاحب موصوف اپنے ریویو کے معرض بیان میں سکوت اختیار کر کے اس عاجز کی صداقت دعوی کی نسبت شہادت دے چکے ہیں بلکہ امکانی طور مثیل مسیح ہونا اس عاجز کا اپنے صریح بیان سے تسلیم کر چکے ہیں ۔ ہاں اس رسالہ میں میں نے خدائے تعالیٰ سے علم قطعی و یقینی پا کر براہین احمدیہ کے مضمون سے اس قدر زیادہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مثالی اور ظلی وجود کے ساتھ آئے گا نہ وہی اصلی مسیح۔ سو میں نے اجماعی عقیدہ کی (اگر اجماع فرض کیا جائے) ایک تفسیر کی ہے نہ اس کے برخلاف کچھ کہا ہے اور مولوی صاحب کو معلوم ہوگا کہ برخلاف اجماع صحابہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے دونوں ٹکڑوں کی نسبت یہی رائے ظاہر کرتی ہیں کہ ۲۹۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسم کے ساتھ نہ بیت المقدس میں گئے نہ آسمان پر بلکہ وہ ایک رویا صالحہ تھی۔ اب ظاہر ہے کہ عائشہ صدیقہ کا یہ قول بخاری اور مسلم کا کچھ خلل انداز نہیں ہوا اور نہ صحاح ستہ کو اس نے نکما اور بے کار کر دیا تو پھر اس عاجز کے اس دعوئی اور اس الہام سے صحاح ستہ کیوں کر علمی اور بے کار ہو جائیں گی ؟ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان پر جانا کہاں ایسا ثابت ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سواے میرے عزیز بھائی اس مقام میں تامل کر اور جلدی نہ کر تامل کناں درخطا و صواب به از ژاژ خایان حاضر جواب اور اگر مولوی صاحب یہ عذر پیش کریں کہ ہم نے اگر چہ اپنے ریویو میں امکانی طور پر مثیل سیح ہونا آپ کا مان لیا ہے اور ایسا ہی ظلی اور روحانی طور پر مسیح موعود ہونا بھی مان لیا لیکن ہم نے یہ کب مانا ہے کہ آپ ہمہ وجوہ ان پیشگوئیوں کے مصداق کامل ہیں جو مسیح ابن مریم کے بارہ میں صحاح میں موجود ہیں۔