ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 245

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۵ ازالہ اوہام حصہ اول ہرگز دلالت نہیں کرتا اور اگر فرض کے طور پر آسمان کا لفظ بھی ہوتا تب بھی ہمارے مطلب کو مصر ومخل نہیں تھا کیونکہ توریت وانجیل میں ایسی آیتیں بہت سی پائی جاتی ہیں جن میں نبیوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ آسمان سے ہی اُترتے ہیں۔ مثلاً یوحنا کی انجیل میں حضرت بیٹی کی طرف سے یہ قول لکھا ہے کہ وہ جو زمین سے آتا ہے وہ زمینی ہے اور زمین سے کہتا ہے وہ جو آسمان سے آتا ہے سب کے اوپر ہے (یعنی نبیوں کا قول دوسرے عقلمندوں کے قول پر مقدم ہے کیونکہ نبی آسمان سے اترتا ہے ) دیکھو یوحنا باب ۳ آیت ۳۱۔ پھر دوسرا قول یہ ہے۔ میں آسمان پر سے اس لئے نہیں اترا کہ اپنی مرضی پر چلوں۔ یوحنا باب ۶ آیت ۱۱۔ پھر تیسرا قول یہ ہے کہ کوئی آسمان پر نہیں گیا سوا اُس شخص کے کہ جو آسمان پر سے اترا۔ یوحنا باب ۳ آیت ۱۳۔ اور فقط یہ کہنا کہ ہم نے اُتارا یا اُترا اس بات پر ہرگز دلالت نہیں کرتا کہ آسمان سے اُتارا گیا ہے کیونکہ قرآن شریف میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ہم نے لو با اتارا اور چار پائے (۱۳۸۵) ( مویشی ) اُتارے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ تمام مویشی توالد تناسل کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں کسی شخص نے کوئی گھوڑا یا بیل یا گدھا وغیرہ آسمان سے اُتر تا کبھی نہیں دیکھا ہو گا حالانکہ اس جگہ صریح لفظ نزول کا موجود ہے اور کوئی شخص اس آیت کو ظاہر پر حمل نہیں کرتا ۔ پھر جبکہ یہ معلوم ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ کی کلام میں ایسے ایسے استعارات و مجازات و کنایات بھی موجود ہیں جن کے ظاہر لفظوں میں صریح اور صاف طور پر فرمایا گیا ہے کہ لوہا اور تمام مویشی حاشيه قال الله تعالى وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ سورة الحديد الجز و نمبر ٢٧ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًات وَانْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ سے سورۃ الزمر الجز نمبر ۲۳ یعنی ہم نے لوہا اُتارا اور ہم نے تم پر لباس اُتارا۔ اور تمہارے لئے چار پائے اُتارے۔ ایسا ہی تو ریت میں یہ فقرات ہیں۔ ہمارا انتر تا بیابان میں گنتی باب ۱۰ آیت ۳۱۔ مجھے بر دن کے پار اترنا نہ ہوگا استثناء باب ۴ آیت ۲۲۔ ہمارے اترنے کی جگہ ہے۔ پیدائش ۲۴ - ۲۳۔ اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ اترنے کا لفظ آسمان سے اترنے پر ہرگز دلالت نہیں کرتا اور اُترنے کے ساتھ آسمان کا لفظ زیادہ کر لینا ایسا ہے جیسا کسی بھوکے سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب دے کہ چار روٹیاں ۔ منه الحديد: ۲۶ الاعراف: ۲۷ الزمر : ۷