ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 243
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۳ ازالہ اوہام حصہ اول جا بجا لکھا ہوا ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کو لوگوں نے بالا تفاق مان لیا ہو۔ اب اگر حضرت مسیح بن مریم نے در حقیقت ایسے طور سے ہی اُترنا ہے جس طور سے ہمارے علماء یقین کئے بیٹھے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سے کوئی فرد بشر انکار نہیں کر سکتا لیکن ہمارے علماء کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں صاف فرماتا ہے کہ اگر میں فرشتوں کو بھی زمین پر نبی مقرر کر کے بھیجتا تو انہیں بھی التباس اور اشتباہ سے خالی نہ رکھتا یعنی اُن میں بھی شبہ اور شک کرنے کی جگہ باقی رہتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہی معجزہ ۲۸۱ آسمان سے اترنے کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مانگا گیا تھا اور اُس وقت اس معجزہ کے دکھلانے کی بھی ضرورت بہت تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار رسالت کرنے سے جہنم ابدی کی سزا تھی مگر پھر بھی خدائے تعالیٰ نے یہ معجزہ نہ دکھایا اور سائلوں کو صاف جواب ملا کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے معجزات خدائے تعالیٰ ہرگز نہیں دکھاتا تا ایمان بالغیب کی صورت میں فرق نہ آوے۔ کیونکہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک بندہ اتر تا ہوا دیکھ لیا اور فرشتے بھی آسمان سے اترتے ہوئے نظر آئے تو پھر تو بات ہی بکلی فیصلہ ہوگئی تو پھر کون بد بخت ہے جو اس سے منکر رہے گا ؟ قرآن شریف اس قسم کی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں لکھا ہے کہ ایسے معجزات دکھانا خدائے تعالیٰ کی عادت نہیں ہے اور کفار مکہ ہمیشہ ایسے ہی معجزات مانگا کرتے تھے ۔ اور خدائے تعالی برابر انہیں یہ کہتا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو کوئی نشان آسمان سے ایسا نازل کریں جس کی طرف تمام منکروں اور کافروں کی گردنیں جھک جائیں ۔ لیکن اس دارالابتلاء میں ایسا نشان ظاہر کرنا ہماری عادت نہیں کیونکہ اس سے ایمان بالغیب جس پر تمام ثواب مترتب ہوتا ہے (۲۸۲ ضائع اور دُور ہو جاتا ہے۔ سواے بھائیو! میں محض نصیحتا للہ آپ لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ اس خیال محال سے باز آ جاؤ۔ ان دو قرینوں پر متوجہ ہو کر نظر ڈالو کہ کس قدر قوی اور