ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 242

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۲ ازالہ اوہام حصہ اول ۲۷۹) اور اُن کا یہ حلیہ ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ایسی پیشگوئی توریت میں لکھی جاتی تو کسی کو چون و چرا کرنے کی حاجت نہ رہتی اور تمام شریروں کے ہاتھ پیر باندھے جاتے لیکن خدائے تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا خدائے تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر نہ تھا ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بلا شبہ قادر تھا بلکہ اگر چاہتا تو اس سے بڑھ کر ایسے صاف صاف اور کھلے کھلے نشان لکھ دیتا کہ سب گردنیں اُن کی طرف جھک جاتیں اور دنیا میں کوئی منکر نہ رہتا مگر اُس نے اس تصریح اور توضیح سے لکھنا اس لئے پسند نہیں کیا کہ ہمیشہ پیشگوئیوں میں ایک قسم کا ابتلا بھی اُسے منظور ہوتا ہے تا سمجھنے والے اور حق کے بیچے طالب اس کو سمجھ لیں ۔ اور جن کے نفسوں میں نخوت اور تکبر اور جلد بازی اور ظاہر بینی ہے وہ اس کے قبول کرنے سے محروم رہ جائیں۔ اب یقینا سمجھو کہ یہی حال اس پیشگوئی کا ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ ابن مریم دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے شرقی طرف منارہ کے پاس اُترے گا کیونکہ اگر اسی طور اور اسی ظاہری صورت پر پیشگوئی نے پورا ہونا ہے تو پھر ایسے طور سے اترنے کے وقت میں دنیا کے باشندوں میں سے کون منکر رہ سکتا ہے؟ تمام قوموں کو جو اب دنیا پر بستی ہیں کیا یہودی ۲۸۰ اور کیا عیسائی اور کیا ہندو اور بدھ مذہب والے اور مجوسی غرض سب فرقوں کو پوچھ کر دیکھ لو کہ اگر اس طور سے اُتر تا کوئی نبی تمہیں دکھائی دے تو کیا پھر بھی تم اس کی نبوت اور اس کے دین میں کچھ شک اور شبہ رکھتے رہو گے؟ بلا شبہ تمام لوگ یہی جواب دیں گے کہ اگر ہم ایسا بزرگ فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اتر تا ہوا دیکھ لیں تو بلاشبہ ایمان لے آویں گے حالانکہ اللہ جل شانۂ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمُ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ کے یعنی اے حسرت بندوں پر کہ ایسا کوئی نبی نہیں آتا جس سے وہ ٹھٹھا نہ کریں۔ ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں يس: ٣١