ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 241
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۱ ازالہ اوہام حصہ اول اب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توریت کی پیشگوئیوں پر نظر ڈالیں کہ اگر چہ توریت کے دو مقام میں ایسی پیشگوئیاں ملتی ہیں کہ جو غور کرنے والوں پر بشر طیکہ منصف بھی ہوں ظاہر کرتی ہیں کہ درحقیقت وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں لکھی گئی ہیں لیکن کج بحثی کے لئے ان میں گنجائش ہی بہت ہے۔ مثلاً توریت میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو کہا کہ خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی قائم کرے گا۔ اس پیشگوئی میں مشکلات یہ ہیں کہ اُسی توریت کے بعض مقامات میں بنی اسرائیل کو ہی بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے اور بعض جگہ بنی اسمعیل کو بھی بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے ایسا ہی دوسرے بھائیوں کا بھی ذکر ہے۔ اب اس بات کا ۲۷۸ قطعی اور بدیہی طور پر کیوں کر فیصلہ ہو کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے مراد فقط بنی اسمعیل ہی ہیں بلکہ یہ لفظ کہ تیرے ہی درمیان سے لکھا ہے زیادہ عبارت کو مشتبہ کرتا ہے اور گو ہم لوگ بہت سے دلائل اور قرائن کو ایک جگہ جمع کر کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ میں جو مماثلت ہے بپایہ ثبوت پہنچا کر ایک حق کے طالب کے لئے نظری طور پر یہ بات ثابت کر دکھاتے ہیں کہ در حقیقت اس جگہ اس پیشگوئی کا مصداق بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی شخص نہیں لیکن یہ پیشگوئی ایسی صاف اور بدیہی تو نہیں کہ ہر ایک اجہل اور احمق کو اس کے ذریعہ سے ہم قائل کر سکیں بلکہ اس کا سمجھنا بھی پوری عقل کا محتاج ہے اور پھر سمجھانا بھی پوری عقل کا محتاج ۔ اگر خدائے تعالیٰ کو ابتلا خلق اللہ کا منظور نہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پر پیشگوئی کا بیان کرنا ارادہ الہی ہوتا تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہیے تھا کہ اے موسیٰ میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں بنی اسمعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اُن کے باپ کا نام عبد اللہ اور دادا کا نام عبد المطلب اور والدہ کا نام آمنہ ہوگا۔ اور وہ مکہ شہر میں پیدا ہوں گے