ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 240
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۰ ازالہ اوہام حصہ اول ان علامات کے لحاظ سے اُس پر ایمان لایا جاوے ہاں یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ اگر سلاطین اور ملا کی کے بیانات کو مسلمان لوگ بھی یہودیوں کی طرح محمول پر ظاہر کریں تو وہ بھی کسی طرح یحیی بن زکریا کو مصداق اُس کی پیشگوئی کا نہیں ٹھہر اسکتے اور اس پیچ میں آکر مسیح ابن مریم کی نبوت بھی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف نے مسیح کی تاویل کو جو ایلیا نبی کے آسمان سے اترنے کے بارہ میں (۲۷۱) انہوں نے کی تھی قبول کر لیا اور مسیح کو اور بیٹی کو سچا نبی ٹھہر یاور نہ اگر قرآن شریف ایلیا کا آسمان سے اتر نا اسی طرح معتبر سمجھتا یعنی ظاہری طور پر جیسا کہ ہمارے بھائی مسلمان مسیح کے اترنے کے بارہ میں سمجھتے ہیں تو ہر گز مسیح کو نبی قرار نہ دیتا کیونکہ سلاطین اور ملا کی آسمانی کتابیں ہیں اگر ان مقامات میں اُن کے ظاہری معنے معتبر ہیں تو ان معانی کے چھوڑنے سے وہ سب کتا میں کمی اور بے کار ٹھہر جائیں گی۔ میرے دوست مولوی محمد حسین صاحب اس مقام میں بھی غور کریں ؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ سلاطین اور ملا کی کے وہ مقامات محرف و مبدل ہوں تو جیسا کہ ابھی میں لکھ چکا ہوں تو یہ سراسر وہم و گمان باطل ہے کیونکہ اگر وہ مقام محرف ومبدل ہوتے تو مسیح بن مریم کا یہودیوں کے مقابل پر یہ عمدہ جواب تھا کہ جو کچھ تمہاری کتابوں میں ایلیا کا آسمان پر جانا اور پھر اُترنے کا وعدہ لکھا ہے یہ بات ہی غلط ہے اور یہ مقامات تحریف شدہ ہیں۔ بلکہ مسیح نے تو ایسا عذر پیش نہ کرنے سے اُن مقامات کی صحت کی تصدیق کر دی۔ ماسوا اس کے وہ کتابیں جیسے یہودیوں کے پاس تھیں ویسے ہی حضرت مسیح اور اُن کے حواری اُن کتابوں کو ۲۷۷) پڑھتے تھے اور اُن کے نگہبان ہو گئے تھے اور یہودیوں کے لئے ہم کوئی ایسا موجب عند العقل قرار نہیں دے سکتے جو ان مقامات کے محرف کرنے کے لئے انہیں بے قرار کرتا۔ اب حاصل کلام یہ کہ مسیح کی پیشگوئی کے بارے میں ایلیا کے قصہ نے یہودیوں کی راہ میں ایسے پتھر ڈال دئے کہ اب تک وہ اپنے اس راہ کو صاف نہیں کر سکے اور بے شمار روحیں اُن کی کفر کی حالت میں اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔