ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 237
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۷ ازالہ اوہام حصہ اول یا درکھنا چاہیے کہ ایلیا کا آسمان پر جانا اور پھر آسمان سے کسی زمانہ میں اترنا بطور پیشنگوئی ایک وعدہ تھا اور یہودیوں کا اجماعی عقیدہ مسلمانوں کی طرح اب تک یہی ہے کہ حضرت ایلیا جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ اُٹھائے گئے اور پھر آخری زمانہ میں اُسی جسم کے ساتھ پھر آسمان سے اُتریں گے چنانچہ ایلیا کا جسم کے ساتھ آسمان پر جانا سلاطین ۲ باب ۲ آیت ۱۱ میں مندرج ہے اور پھر اس کے اترنے کا وعدہ صحیفہ ملا کی کے باب ۴ آیت ۵ میں بطور پیشگوئی کے دیا گیا ہے جس کے اب تک یہودی لوگ منتظر ہیں اور حضرت مسیح نے جو حضرت بیٹی کی نسبت کہا کہ ایلیا جو آنیوالا تھا یہی ہے یہ کلمہ جمہور یہود کے اجماع کے برخلاف تھا۔اسی وجہ سے اُنہوں نے نہ مسیح کو قبول کیا نہ بچی کو کیونکہ وہ تو آسمان کی راہ دیکھ رہے تھے کہ کب ایلیا فرشتوں کے ۲۷۱ کندھوں پر اُترتا ہے اور بڑے مشکلات اُن کو یہ پیش آگئے تھے کہ اسی طور کے اترنے پر اُن کا اجماع ہو چکا تھا اور ظواہر نصوص صحیفہ سلاطین و صحیفہ ملا کی اسی پر دلالت کرتے تھے ۔ سو انہوں نے اس آزمائش میں پڑ کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قبول نہ کیا بلکہ مسیح کی نبوت سے بھی انکاری رہے کیونکہ اُن کی کتابوں میں لکھا تھا کہ ضرور ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا آسمان سے اتر آوے سو چونکہ ایلیا کا آسمان سے اترنا جس طرح انہوں نے اپنے دلوں میں مقرر کر رکھا تھا اسی طرح ظہور میں نہ آیا۔ اس لئے ظاہر پرستی کی شامت سے یہودیوں کو دو بچے نبیوں کی نبوت سے منکر رہنا پڑا یعنی مسیح اور بیٹی سے۔ اگر وہ لوگ اس ظاہر پرستی سے باز آکر سلاطین اور ملا کی کی عبارتوں کو استعارات و مجازات پر حمل کر لیتے تو آج دنیا میں ایک بھی یہودی نظر نہ آتا سب کے سب عیسائی ہو جاتے کیونکہ صحیفہ سلاطین اور صحیفہ ملا کی میں ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے در حقیقت مراد یہی تھی کہ ظلی اور مثالی وجود کے ساتھ پھر ایلیا دنیا میں آئے گا جس سے مراد حضرت بیٹی کا آنا تھا جو باعتبار اپنے روحانی خواص کے مثیل ایلیا تھے لیکن یہودیوں ﴿۲۷۲﴾ نے اپنی بدقسمتی اور بے سعادتی کی وجہ سے اُن روحانی معنوں کی طرف رخ نہ کیا اور ظاہر پرستی میں پھنسے رہے۔ اور درحقیقت ذرہ غور سے دیکھیں تو یہودیوں کو حضرت بیٹی کے