ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 236

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۶ ازالہ اوہام حصہ اول بکلی مخالف اور نیز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ثابت نہیں ہو سکتیں بلکہ اُن کے مخالف حدیثیں ثابت ہو رہی ہیں تعلیم یافتہ لوگوں میں ہرگز پھیلا نہیں سکتے اور نہ یورپ امریکہ کے محقق طبع لوگوں کی طرف جو اپنے دین کے لغویات سے دست بردار ہو رہے ہیں بطور ہدیہ تحفہ بھیج سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دل اور دماغ کو نئے علوم کی روشنی نے انسانی قوتوں میں ترقی دے دی ہے وہ ایسی باتوں کو کیوں کر تسلیم کر لیں گے جن میں سراسر خدائے تعالیٰ کی تو ہین اور اس کی توحید کی اہانت اور اس کے قانون قدرت کا ابطال اور اس کے کتابی اصول کی تنسیخ پائی جاتی ہے۔ اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اتر نا اُس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے لہذا یہ بحث بھی کہ مسیح اُسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا جو دنیا میں اُس کو حاصل تھا اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھایا گیا تھا جبکہ سیہ بات قرار پائی تو اول ہمیں اُس عقیدہ پر نظر ڈالنا چاہیے جو اصل قرار دیا گیا ہے کہ کہاں تک وہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ کیونکہ اگر اصل کا کما حقہ تصفیہ ہو جائے گا تو پھر اس کی فرع ماننے میں کچھ تامل نہیں ہوگا اور کم سے کم امکانی طور پر ہم قبول کر سکیں گے کہ جب کہ ایک شخص کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو گیا ہے تو پھر اسی جسم کے ساتھ واپس آنا اُس کا کیا مشکل ہے لیکن اگر اصل بحث قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو سکے بلکہ حقیقت امر اس کے مخالف ثابت ہو تو ہم فرع کو کسی طرح سے تسلیم نہیں کر سکتے اگر فرع کی تائید میں بعض حدیثیں بھی ہوں گی تو ہم پر فرض ہوگا کہ اُن کو اصل سے تطبیق (۷۰) دینے کے لئے کوشش کریں اور اگر برعایت اصل وہ حدیثیں حقیقت پر حمل نہ ہو سکیں تو پھر ہم پر واجب ہوگا کہ انہیں استعارات و مجازات میں داخل کر لیں اور بجائے مسیح کے اُترنے کے کسی مثیل مسیح کا اُترنا مان لیں جیسا کہ خود حضرت مسیح نے ایلیا نبی کی نسبت مان لیا حالانکہ تمام یہودیوں کا اسی پر اجماع تھا اور اب تک ہے کہ ایلیا آسمان سے اُتر آئے گا۔