ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 235
روحانی خزائن جلد۳ ۲۳۵ ازالہ اوہام حصہ اول آسمان کی طرف اُٹھائی گئی بلا شبہ ہر ایک شخص کا نور قلب اور کانشنس بلاتر و داس بات کو سمجھ لیتا اور قبول کر لیتا ہے کہ ایک شخص مومن کی موت کے بعد شرعی اور طبعی طور پر یہی ضروری امر ہے کہ اس کی روح آسمان کی طرف اُٹھائی جائے اور اس طریق کا انکار کرنا گویا امہات (۲۶۷ مسائل دین کا انکار ہے اور نص اور حدیث سے کوئی ثبوت اس کا نہیں مل سکتا اگر حضرت عیسی حقیقت میں موت کے بعد پھر جسم کے ساتھ اُٹھائے گئے تھے تو قرآن شریف میں عبارت یوں چاہیے تھی یا عیسی انی متوفیک ثم مُحییک ثم رافعک مع جسدک الی السماء یعنی اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا پھر زندہ کروں گا پھر تجھے تیرے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھالوں گا لیکن اب تو بجز مجرد رافعک کے جو متوفی کے بعد ہے کوئی دوسرا لفظ رافعک کا تمام قرآن شریف میں نظر نہیں آتا جو ثم محییک کے بعد ہو۔ اگر کسی جگہ ہے تو وہ دکھلانا چاہیے۔ میں بدعوئی کہتا ہوں کہ اس ثبوت کے بعد کہ حضرت عیسیٰ فی الحقیقت فوت ہو گئے تھے یقینی طور پر یہی ماننا پڑے گا کہ جہاں جہاں رافعک یا بل رفعه الله اليه ہے اس سے مراد ان کی روح کا اُٹھایا جانا ہے جو ہر ایک مومن کے لئے ضروری ہے۔ ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ تمام نبی خدائے تعالیٰ کی طرف ہی اُٹھائے جاتے ہیں۔ اب ہم بخوبی ثابت کر چکے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ صیح جسم کے ساتھ آسمان پر چلا گیا تھا (۲۶۸) قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پر اس کی بنیاد معلوم ہوتی ہے مگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے ایسے عقیدوں کے ساتھ دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری غلطی ہے اگر افریقہ کے ریگستان یا عرب کے صحرانشین امیوں اور بڑوؤں میں یا سمندر کے جزیروں کے اور وحشی لوگوں کی جماعتوں میں یہ بے سروپا باتیں پھیلائیں تو شاید آسانی سے پھیل سکیں لیکن ہم ایسی تعلیمات کو جو عقل اور تجربہ اور طبعی اور فلسفہ ނ