ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 229
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۹ ازالہ اوہام حصہ اول مثیل موعود ہونے کے بارہ میں اس عاجز کا الہام حدیث اور قرآن کے ہرگز مخالف نہیں اور کتب حدیث کو مہمل اور بے کار نہیں کرتا بلکہ اُن کا مصدق اور اُن کی سچائی کو ظاہر کرنے والا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ فرقان کریم مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا بیان کر رہا ہے اور دجال معہود کا (۲۵۶ مرجانا خود صحیح مسلم کی بعض حدیثیں ثابت کر رہی ہیں پھر قرآن اور بعض حدیث میں تطبیق کرنے کے لئے بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ ابن مریم کے اُترنے سے اس کے کسی مثیل یا کئی مثیلوں کا اتر نا مراد لیا جاوے۔ پھر جبکہ الہام بھی اسی راہ کی طرف رہنمائی کرے تو کیا وہ حدیث اور قرآن کے موافق ہوا یا مخالف؟ اب رہا یہ امر کہ کسی نبی کا اپنے تئیں مثیل ٹھہر انا عند الشرع جائز ہے یا نہیں ۔ پس واضح ہو کہ در حقیقت اگر غور کر کے دیکھو تو جس قدر انبیا ء دنیا میں بھیجے گئے ہیں وہ اسی غرض سے بھیجے گئے ہیں کہ تا لوگ اُن کے مثیل بننے کے لئے کوشش کریں اگر ہم ان کی پیروی کرنے سے اُن کے مثیل نہیں بن سکتے بلکہ ایسے خیال سے انسان کا فر وملحد ہو جاتا ہے تو اس صورت میں انبیاء کا آنا عبث اور ہمارا اُن پر ایمان لانا بھی عبث ہے۔ قرآن شریف صاف یہی ہدایت فرماتا ہے اور ہمیں سورۃ فاتحہ ام الکتاب میں مثیل بن جانے کی امید دیتا ہے اور ہمیں تاکید فرماتا ہے کہ پنج وقت تم میرے حضور میں کھڑے ہو کر اپنی نماز میں مجھ سے یہ دعا مانگو کہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے یعنی اے میرے خداوند (۲۵۷) رحمن و رحیم ہمیں ایسی ہدایت بخش کہ ہم آدم صفی اللہ کے مثیل ہو جائیں شیث نبی اللہ کے مثیل بن جائیں حضرت نوح آدم ثانی کے مثیل ہوجائیں۔ ابراہیم خلیل اللہ کے مثیل ہو جائیں موسیٰ کلیم اللہ کے مثیل ہو جائیں۔ عیسی روح اللہ کے مثیل ہو جا ئیں اور جناب احمد مجتبی محمد مصطفی حبیب اللہ کے مثیل ہو جائیں اور دنیا کے ہر ایک صدیق و شہید کے مثیل ہو جائیں۔ اب ہمارے علماء جو مثیل ہونے کے دعوی کو کفر والحاد خیال کرتے ہیں اور جس شخص کو الہام الہی کے ذریعہ سے اس ممکن الحصول مرتبہ کی بشارت دی جاوے اس کو ملحد اور کافر اور جہنمی ٹھہراتے ہیں۔ الفاتحه : ۷،۶