ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 224
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۴ ازالہ اوہام حصہ اول اور مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے کے بارہ میں ہمارے پاس اس قدر یقینی اور قطعی ثبوت ہیں کہ اُن کے مفصل لکھنے کے لئے اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں ۔ پہلے قرآن شریف پر نظر غور ڈالو اور ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ کیوں کر وہ صاف اور بین طور پر عیسی بن مریم کے مرجانے کی خبر دے رہا ہے جس کی ہم کوئی بھی تاویل نہیں کر سکتے مثلاً یہ جو خدائے تعالی قرآن کریم میں حضرت عیسی کی طرف سے فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ کیا ہم اس جگہ توفی سے نیند مراد لے سکتے ہیں؟ کیا یہ معنے اس جگہ موزوں ہوں گے کہ جب تو نے مجھے سلا دیا اور میرے پر نیند غالب کر دی تو میرے سونے کے بعد تو اُن کا نگہبان تھا ہر گز نہیں بلکہ توفی کے سیدھے اور صاف معنے جو موت ہے وہی اس جگہ چسپاں ہیں لیکن موت سے مراد وہ موت نہیں جو آسمان سے اترنے کے بعد پھر وارد ہو کیونکہ جو سوال اُن سے کیا گیا ہے یعنی اُن کی اُمت کا بگڑ جانا اُس وقت کی موت سے اس سوال کا کچھ علاقہ نہیں ۔ کیا نصاری اب (۲۲۷) صراط مستقیم پر ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ جس امر کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے عیسی بن مریم سے سوال کیا ہے وہ امر تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ہی کمال کو پہنچ چکا ہے۔ ماسوا اس کے حدیث کی رُو سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فوت ہو جانا ثابت ہے چنانچہ تفسیر معالم کے صفحہ ۱۶۲ میں زیر تفسیر آیت يُعِیسَی اِنّى مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى لکھا ہے کہ علی بن طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اِنِّی مُمِیتُكَ یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالی کے دلالت کرتے ہیں قل يَتَوَفُكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلكَةُ طَيِّبِينَ الَّذِينَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلّكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ ۔ غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا حاشیه قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ توفی کا لفظ آیا ہے اُن تمام مقامات میں توفی کے معنے موت ہی لئے گئے ہیں۔ منہ المائدة : ١١٨ ال عمران ۵۶ السجدة :١٢ النحل:٣٣ ه النحل: ٢٩