ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 215
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۵ ازالہ اوہام حصہ اوّل فلاں ملک کی طرف چلے جاؤ تو فی الفور چلے جائیں گے زمین کے بخارات اس کے حکم سے آسمان کی طرف اُٹھیں گے اور زمین گوکیسی ہی کلر و شور ہو فقط اُس کے اشارہ سے عمدہ اور ۲۲۹ اول درجہ کی زراعت پیدا کرے گی غرض جیسا کہ خدائے تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ اِنَّمَا اَمْرُةٌ إِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ لا اِسی طرح وہ بھی كُنْ فَيَكُونُ سے سب کچھ کر دکھائے گا۔ مارنا ، زندہ کرنا اُس کے اختیار میں ہوگا۔ بہشت اور دوزخ اُس کے ساتھ ہوں گے غرض زمین اور آسمان دونوں اُس کی مٹھی میں آجائیں گے اور ایک عرصہ تک جو چالیس برس یا چالیس دن ہیں بخوبی خدائی کا کام چلائے گا اور الوہیت کے تمام اختیار واقتداراُس سے ظاہر ہوں گے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ مضمون جو اس حدیث کے ظاہر لفظوں سے نکلتا ہے اس موحدانہ تعلیم کے موافق و مطابق ہے جو قرآن شریف ہمیں دیتا ہے کیا صد با آیات قرآنی ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ ناطق نہیں سناتیں کہ کسی زمانہ میں بھی خدائی کے اختیارات انسان هالكة الذات باطلة الحقيقت کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ کیا یہ مضمون اگر ظاہر پر حمل کیا جائے تو قرآنی توحید پر ایک سیاہ دھبہ نہیں لگاتا ؟ تعجب کہ ایک طرف ہمارے بھائی موحدین اس بات کی شیخی مارتے ہیں کہ ہم نے شرک سے بکلی کنارہ کیا ہے اور دوسرے لوگ مشرک اور بدعتی اور ہم موحد ( ۲۳۰ ) اور متبع سنت ہیں اور ہر ایک کے آگے بکمال فخر اپنے اس موحدانہ طریق کی ستائش اور تعریف بھی کرتے ہیں پھر ایسے پر شرک اعتقادات اُن کے دلوں میں جمے ہوئے ہیں کہ ایک کا فر حقیر کو الوہیت کا تمام تخت و تاج سپرد کر رکھا ہے اور ایک انسان ضعیف البنیان کو اپنی عظمتوں اور قدرتوں میں خدائے تعالیٰ کے برابر سمجھ لیا ہے۔ اولیاء کی کرامات سے منکر ہو بیٹھے مگر دجال کی کرامات کا کلمہ پڑھ رہے ہیں۔ اگر ایک شخص انہیں کہے کہ سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ نے باراں برس کے بعد کشتی غرق ہوئی ہوئی زندہ آدمیوں سے بھری ہوئی نکالی تھی اور ایک دفعہ يس :٨٣