ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 214
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۴ ازالہ اوہام حصہ اول اب جب ہم ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گرداب حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیر صحیح ۔ تب عقل خداداد ہم کو یہ طریق فیصلہ کا بتلاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اعتراض نہیں انہیں کو صحیح سمجھنا چاہیے سو اس طریق فیصلہ کی رو سے یہ حدیثیں جو ابن صیاد کے حق میں وارد ہیں قرین قیاس معلوم ہوتی ہیں کیونکہ ابن صیاد اپنے اوائل ایام میں بے شک ایک دجال ہی تھا اور بعض شیاطین کے تعلق سے اُس سے امور عجیبہ ظاہر ہوتے تھے جس سے اکثر لوگ فتنہ میں پڑتے تھے لیکن بعد اس کے خدا داد ہدایت سے وہ مشرف باسلام ہو گیا اور شیطانی طریق سے نجات پا گیا اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے اُسے دیکھا تھا ایسا ہی اُس نے طواف بھی کر لیا اور اُس کے معاملہ میں کوئی ایسا امر نہیں جو قانون قدرت اور عقل سے باہر (۲۳) ہو اور نہ اُس کی تعریف میں ایسا غلو کیا گیا ہے جو شرک میں داخل ہو لیکن جب ہم اُن دوسری حدیثوں کو دیکھتے ہیں جو دجال معہود کے ظاہر ہونے کا وقت اس دنیا کا آخری زمانہ بتلاتی ہیں تو وہ سراسر ایسے مضامین سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہیں کہ جو نہ عند العقل درست و صحیح ٹھہر سکتی ہیں اور نہ عند الشرع اسلامی توحید کے موافق ہیں چنانچہ ہم نے قسم ثانی کے ظہور دجال کی نسبت ایک لمبی حدیث مسلم کی لکھ کر معہ اُس کے ترجمہ کے ناظرین کے سامنے رکھ دی ہے ناظرین خود پڑھ کر سوچ سکتے ہیں کہ کہاں تک یہ اوصاف جو دجال معہود کی نسبت لکھے ہیں عقل اور شرع کے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات بہت صاف اور روشن ہے کہ اگر ہم اس دمشقی حدیث کو اُس کے ظاہری معنوں پر حمل کر کے اس کو صحیح اور فرمودہ خدا اور رسول مان لیں تو ہمیں اس بات پر ایمان لانا ہو گا کہ فی الحقیقت دجال کو ایک قسم کی قوت خدائی دی جائے گی اور زمین و آسمان اُس کا کہا مانیں گے اور خدائے تعالی کی طرح فقط اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا جائے گا۔ بارش کو کہے گا ہو تو ہو جائے گی بادلوں کو حکم دے گا کہ