ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 213
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۳ ازالہ اوہام حصہ اول اشتباہ ہے اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسی بن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے ۔ تعجب تو یہ ہے کہ اگر ابن صیاد کی پیشانی پر ک ف دلکھا ہوا نہیں تھا تو اس پر شک کرنے کی کیا وجہ تھی اور اگر لکھا ہوا تھا تو پھر اس کو دجال معہود یقین نہ کرنے کا کیا سبب تھا لیکن دوسری حدیثوں سے ظاہر ہے کہ بالآخر اس پر یقین کیا گیا کہ یہی دجال معہود ہے۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہمیں اب اس میں شک نہیں کہ یہی دجال معہود ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخر کار یقین کر لیا مگر یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے کہ دجال کی پیشانی پرک ف دلکھا ہوا ہوگا تو پھر اوائل دنوں میں ابن صیاد کی نسبت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیوں شک اور تردد میں رہے اور کیوں یہ فرمایا کہ شاید ﴿۲۶﴾ یہی دجال معہود ہو اور یا شاید کوئی اور ہو۔ گمان کیا جاتا ہے کہ شاید اُس وقت تک ک ف د اس کی پیشانی پر نہیں ہو گا۔ میں سخت متعجب اور حیران ہوں کہ اگر سچ مچ دجال معہود آخری زمانہ میں پیدا ہونا تھا یعنی اُس زمانہ میں کہ جب مسیح بن مریم ہی آسمان سے اُتریں تو پھر قبل از وقت یہ شکوک اور شبہات پیدا ہی کیوں ہوئے اور زیادہ تر عجیب یہ کہ ابن صیاد نے کوئی ایسا کام بھی نہیں دکھایا کہ جو دجال معہود کی نشانیوں میں سے سمجھا جاتا یعنی یہ کہ بہشت اور دوزخ کا ساتھ ہونا اور خزانوں کا پیچھے پیچھے چلنا اور مردوں کا زندہ کرنا اور اپنے حکم سے مبینہ کو برسانا اور کھیتوں کو اُگانا اور ستر باغ کے گدھے پر سوار ہونا۔ اب بڑی مشکلات یہ در پیش آتی ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانہ میں اُتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں اُن کی موضوع ٹھہرتی ہیں۔ اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر اُن کا موضوع ہونا مانا پڑتا ہے اگر یہ متعارض و متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں صرف دوسری صحیحوں میں ہوتیں تو شائد ہم اِن دونوں ﴿۲۷﴾ کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کر کے اُن دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے مگر اب مشکل تو یہ آپڑی ہے کہ انہیں دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسموں کی حدیثیں موجود ہیں ۔