ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 212

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۲ ازالہ اوہام حصہ اول اور صاحب اولاد ہونا اور مکہ اور مدینہ میں جانا بوضاحت تمام لکھا ہے اور نہ صرف یہی بلکہ انہی حدیثوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابن صیاد مدینہ منورہ میں فوت ہو گیا اور اس پر نماز پڑھی گئی۔ اب ہر ایک منصف بنظر انصاف دیکھ سکتا ہے کہ جن کتابوں میں دجال کے آخری زمانہ میں ظاہر ہونے اور حضرت عیسی کے ہاتھ سے مارے جانے کی خبر لکھی ہے انہیں ۲۲۴ کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوا موجود ہے کہ دجال معہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی ظاہر ہو گیا تھا اور مشرف باسلام ہو کر فوت ہو گیا تھا اور اس کا مشرف باسلام ہونا بھی از رواس پیشگوئی کے ضروری تھا جو بخاری اور مسلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بہ پیرایہ ایک خواب کے بیان ہو چکی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو عالم رؤیا میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا تھا بہر حال جبکہ انہیں حدیثوں میں دجال معہود کا اس طرح پر فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر دوسری حدیثوں پر جو ان کی ضد واقع ہیں کیوں کر اعتبار کیا جائے ہاں اگر علماء ان حدیثوں کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح سے موضوع ٹھہرا کر خارج کر دیں تو البتہ اُن کے دعوئی کے لئے ایک بنیاد پیدا ہو سکتی ہے ورنہ اذا تعارضا تساقط پر عمل کر کے دونوں قسم کی حدیثوں کو ساقط از اعتبار کرنا چاہیے اور اس مقام میں زیادہ تر تعجب کی یہ جگہ ہے کہ امام مسلم صاحب تو یہ لکھتے ہیں کہ دجال معہود کی پیشانی پرک ف دلکھا ہوا ہو گا مگر یہ دجال تو انہیں کی حدیث کی رو سے مشرف با سلام ۲۲۵) ہو گیا پھر مسلم صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجال معہود بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہوتی ہے مشرق مغرب میں پھر جائے گا مگر یہ دجال تو جب مکہ سے مدینہ کی طرف گیا تو ابی سعید سے کچھ زیادہ نہیں چل سکا جیسا کہ مسلم کی حدیث سے ظاہر ہے۔ ایسا ہی کسی نے اس کی پیشانی پر ک ف دلکھا ہوا نہیں دیکھا۔ اگر ابن صیاد کی پیشانی پر ک ف دلکھا ہوا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کرنے سے کیوں منع کرتے اور کیوں فرماتے کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی تک