ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 206

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۶ ازالہ اوہام حصہ اول اور کہا کہ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی ۔ انہیں دنوں میں میں نے ایک نہایت خوبصورت ۲۱۴ مرد دیکھا اور میں نے اُسے کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو تب اُس نے اشارہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ تو عجیب خوبصورت آدمی ہے اُس نے یہ جواب دیا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں اور ابھی تھوڑے دن گزرے ہیں کہ ایک مدقوق اور قریب الموت انسان مجھے دکھائی دیا اور اس نے ظاہر کیا کہ میرا نام دین محمد ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ دین محمدی ہے جو مجسم ہو کر نظر آیا ہے اور میں نے اس کو تسلی دی کہ تو میرے ہاتھ سے شفا پا جائے گا ۔ على هذا القياس کبھی اعمال نیک یا بد بھی اشکال جسمانیہ میں نظر آجایا کرتے ہیں اور قبر میں اعمال کا متشکل ہو کر نظر آنا عام عقیدہ مسلمانوں کا ہے اسی بنا پر آنحضرت صلعم خوابوں کی تعبیر میں اشخاص مرئیہ کے ناموں سے اشتقاق خیر یا شرکا کر لیا کرتے تھے۔ اب پھر ہم دمشقی حدیث کے بقیہ ترجمہ کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں ۔ یا کہ جو شخص تم میں سے اس کو یعنی دجال کو پاوے تو چاہیے کہ اس کے سامنے سورہ کہف کی پہلی آیتیں پڑھے کہ اس میں اُس کے فتنہ سے امان ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے اصحاب کہف کی طرح استقامت اختیار کرے کیونکہ ان آیتوں میں اُن لوگوں کی استقامت کا ہی ذکر ہے جو ایک مشرک بادشاہ کے ظلم سے ڈر کر ایک غار میں چھپ گئے تھے (اے میرے دوستو ! اب تم بھی ان آیات کو پڑھا ۲۱۵ کرو کہ بہت سے دجال تمہارے سامنے ہیں ) پھر فرمایا رسول نبی امی نے فداءً له ابی و امی کہ دجال اس راہ سے نکلنے والا ہے کہ جو شام اور عراق کے درمیان واقعہ ہے۔ اور دائیں بائیں فساد ڈالے گا ( یہ بھی ایک استعارہ ہے جیسا کہ مکاشفات میں عام طور پر استعارات و کنایات ہوا کرتے ہیں ) پھر بعد اس کے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو! تم نے اُس وقت ثابت رہنا یعنی جیسے اصحاب الکہف ثابت قدم رہے تھے۔ راوی کہتا ہے