ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 207
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۷ ازاله او بام حصہ اول کہ یا رسول اللہ کس مدت تک دجال دنیا میں ٹھہرے گا تو آپ نے فرمایا کہ چالیس دن لیکن شرح السنة میں اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ چالیس برس ٹھہرے گا مگر در حقیقت ان روایات میں کسی قسم کا اختلاف یا تناقض نہیں سمجھنا چاہیے اور اس بات کا علم حوالہ بخدا کرنا چاہیے کہ ان چالیس دن یا چالیس برس سے کیا مراد ہے۔ اور مسلم کی حدیث کا بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ دجال کا ایک دن برس کے برابر ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر باقی دن معمولی دنوں کے موافق (یہ) سب استعارات و کنایات ہیں ) پھر راوی کہتا ہے کہ ہم نے عرض کی کہ کیا اُن لمبے ہو دنوں میں ایک دن کی نماز پڑھنا کافی ہوگا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نماز کے وقتوں کے ﴿۲۶﴾ مقدار پر اندازہ کر لیا کرنا ( واضح ہو کہ یہ بیان پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا علی سبیل الاحتمال ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلحاظ وسعت قدرت الہی کشفی امر کو مطابق سوال سائل کے ظاہر پر محمول کر کے جواب دے دیا ہے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث عائشہ رضی اللہ عنھا میں جو بخاری کے صفحہ ۵۵۱ میں درج ہے صاف طور پر تصریح فرما چکے ہیں کہ مکاشفات کی تعبیر کبھی تو ظاہر پر اور کبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آجایا کرتی ہے اور در حقیقت یہی مذہب تمام انبیا و اولیاء کا آج تک چلا آیا ہے سو یہ جواب جو نمازوں کا اندازہ کر لیا کرنا آپ نے فرمایا یہ سائل کے فہم اور استعداد اور رجوع خیال کے موافق برطبق حاشیہ لمبے دنوں سے مراد تکلیف اور مصیبت کے دن بھی ہوتے ہیں بعض مصیبتیں ایسی دردناک ۲۱۲ ہوتی ہیں کہ ایک دن ایک برس کے برابر دکھائی دیتا ہے اور بعض مصیبتیں ایسی کہ ایک دن ایک مہینہ کی مانند معلوم ہوتا ہے اور بعض مصیبتوں میں ایک دن ایک ہفتہ جیسا لمبا سمجھا جاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ صبر پیدا ہو جانے سے وہی لمبے دن معمولی دن دکھائی دینے لگتے ہیں اور صبر کرنے والوں کے لئے آخر وہ گھٹائے جاتے ہیں غرض یہ ایک استعارہ ہے اس پر غور کرو کہ در حقیقت یہ لمبے دن ایسے ہی ہیں جیسے آپ نے فرمایا تھا کہ میری بیویوں میں سے پہلے وہ فوت ہوگی جس کے لمبے ہاتھ ہیں۔ من منه