ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 202

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۲ ازالہ اوہام حصہ اول اب اس تمام حدیث پر نظر غور ڈال کر معلوم ہوگا کہ جو کچھ دمشقی حدیث میں مسلم نے بیان کیا ہے اکثر باتیں اس کی بطور اختصار اس حدیث میں درج ہیں اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اور صریح طور پر اس حدیث میں بیان فرما دیا ہے کہ یہ میرا ایک مکاشفہ یا ایک خواب ہے پس اس جگہ سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ دمشق والی حدیث جو پہلے (۲۰۷) ہم لکھ آئے ہیں در حقیقت وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خواب ہی ہے۔ جیسا کہ اُس میں یہ اشارہ بھی گانی کا لفظ بیان کر کے کیا گیا ہے اور یہ حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاف اور صریح طور پر فرماتے ہیں کہ میرا یہ ایک کشف یا خواب ہے اس کو بخاری اور مسلم دونوں نے اپنی صحیحین میں لکھا ہے اور علماء نے اس جگہ ایک اشکال پیش کر کے ایسے لطیف طور پر اس کا جواب دیا ہے جو ہمارے دعوی کا ایسا مؤید ہے کہ گویا ہم میں اور ہمارے مخالفین میں فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حدیث میں جو متفق علیہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے مسیح ابن مریم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور پھر بعد اس کے فرماتے ہیں کہ ایسا ہی میں نے مسیح دجال کو بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔اس بیان سے یہ لازم آتا ہے کہ مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا مدعا و مقصد ایک ہی ہو اور وہ دونوں صراط مستقیم پر چلنے والے اور اسلام کے بچے تابع ہوں حالانکہ دوسری حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دجال خدائی کا دعوی کرے گا پھر اس کو خانہ کعبہ کے طواف سے کیا کام ہے۔ اس کا علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ ایسے الفاظ و کلمات کو ظاہر پر حمل کرنا بڑی غلطی ہے یہ تو درحقیقت ۲۰۸) مکاشفات اور خوابوں کے پیرایہ میں بیانات ہیں جن کی تعبیر و تاویل کرنی چاہیے جیسا کہ عام طور پر خوابوں کی تعبیر کی جاتی ہے سو اس کی تعبیر یہ ہے کہ طواف لغت میں گرد پھرنے کو کہتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام اپنے نزول کے وقت میں اشاعت دین کے کام کے گرد پھریں گے اور اس کا انجام پذیر ہو جانا چاہیں گے ایسا ہی مسیح دجال بھی