ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 201
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۱ ازالہ اوہام حصہ اول ذری و اسبغه ضروعًا وامده ـ ثـم يـــاتــى القوم من الناس بابن قطن واضعا يديه على منكبي رجلين فـيـدعــوهــم فيردون عليه يطوف بالبيت فسألتُ من هذا فقالوا هذا المسيح قوله فينصرف عنهم الدجّال متفق عليه وفى رواية قال في الدجال رجل فيصبحون مملحين ليس بايديهم شيء من اموالهم احمر جسيم جعد الراس اعور العين اليمنى اقرب | ويــمـر بالخربة فيقول لها الناس به شبها ابن قطن اخرجی کنوزک فتتبعه یعنی عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ((۲۰۵) کنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلنا نے فرمایا کہ میں نے آج کی رات خواب میں یا از راہ مکاشفہ اپنے شبابا فيضربه بالسيف تئیں کعبہ کے پاس دیکھا اور وہاں مجھے ایک شخص گندم گوں نظر آیا فيقطعه جزلتين رمية الغرص ثم يدعوه فيقبل و جس کا رنگ گندم گوں مردوں میں سے اول درجہ کا معلوم ہوتا تھا اور يتهلل وجهه يضحك اس کے بال ایسے صاف معلوم ہوتے تھے کہ جیسے سے کنگھی کی ہوتی ہے فبينما هو کذالک اذ اور اُن میں سے پانی ٹپکتا ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ شخص دو آدمیوں بـعـث الـلـه المسيح ابن | مريم - فينزل عند المنارة کے مونڈھوں پر تکیہ کر کے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ پس میں نے البيضاء شرقي دمشق، پوچھا کہ یہ کون ہے تو مجھے کہا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہے پھر اسی خواب بین مهزودتين واضعًا كفيه على اجنحة ملکین میں ایک شخص پر میں گذرا جس کے بال مڑے ہوئے تھے اور داہنی اذا طاطا رأسه قطر واذا آنکھ اُس کی کافی تھی گویا آنکھ اُس کی انگور ہے پھولا ہوا بے نوران رفعه تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يحل لوگوں سے بہت مشابہ تھا جو میں نے ابن قطن کے ساتھ دیکھے ہیں لكافر يجد من ريح نفسہ اور اس نے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے مونڈھوں پر رکھے ہوئے تھے (۲۰۶) الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهی طرفہ فیطلبہ اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ حتى يـدر کــه بـاب لد لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔