ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 196
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۹۶ ازالہ اوہام حصہ اول شأنك عجيب | ۱۹۷ واجرك قريب الارض تجھے اپنے اخترتك لنفسی تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری کرامت کا درخت ثابت اور مستحکم کر دیا تو میری و میری درگاہ میں وجیہ ہے میں نے تجھے درگاه : والسماء معك كما هو لئے چنا ۔ تیری شان عجیب اور تیرا اجر قریب ہے۔ تیرے ساتھ زمین و معى جرى الله في حلل آسمان ایسا ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ تو خدا کا پہلوان ہے الانبياء لا تخف انك انت الاعلی ینصرک نبیوں کے حقوں میں ۔ مت خوف کر کہ غلبہ تجھ کو ہے ۔ خدا کئی میدانوں الله في مواطن ان یومی میں تیری مدد کرے گا۔ میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے۔ میں نے لکھ لفصل عظيم كتب الله | چھوڑا ہے کہ ہمیشہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ یاد رکھ لا غلبن انا ورسلي الا ان که خدا کا هی گروه غاله کا ہی گروہ غالب رہا کرتا ہے۔ حزب الله هم الغالبون ۔ یہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ میں صفحات مذکورہ بالا میں ہم لکھ چکے ہیں۔ جو صراحتاً وکنا یا اس عاجز کے مثیل موعود ہونے پر دلالت کر رہے ہیں۔ ہاں براہین میں اس بات کا الہامی طور پر کچھ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ حضرت مسیح بن مریم کے نزول کے جو لوگ منتظر ہیں کہ وہی سچ مچ بہشت سے نکل کر فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے زمین پر اتر آئیں گے اس کی اصل حقیقت کیا ہے بلکہ میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں ۔ سواسی ۱۹۸ ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں ۔ اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہو گی یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اُس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے