ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 196

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۹۶ ازالہ اوہام حصہ اول اخترتك لنفسی تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری کرامت کا درخت شأنك عجيب ثابت اور مستحکم کر دیا تو میری درگاہ میں وجیہ ہے میں نے تجھے اپنے ١٩٧ واجرك قريب الارض والسماء معك كما ھو لئے چنا۔ تیری شان عجیب اور تیرا اجر قریب ہے۔ تیرے ساتھ زمین و معى جرى الله في حلل آسمان ایسا ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ تو خدا کا پہلوان ہے الانبياء لا تخف انك نبیوں کے حقوں میں ۔ مت خوف کر کہ غلبہ تجھ کو ہے۔ خدا کئی میدانوں انت الاعلى ينصرك | الله في مواطن ان يومی میں تیری مدد کرے گا۔ میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے۔ میں نے لکھ كتب الله لفصل عظيم لاغلبن انا ورسلي الاان | حزب الله هم الغالبون ۔ چھوڑا ہے کہ ہمیشہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ یادرکھ کہ خدا کا ہی گروہ غالب رہا کرتا ہے۔ یہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ میں صفحات مذکورہ بالا میں ہم لکھ چکے ہیں۔ جو صراحتاً و کنایتاً اس عاجز کے مثیل موعود ہونے پر دلالت کر رہے ہیں۔ ہاں براہین میں اس بات کا الہامی طور پر کچھ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ حضرت مسیح بن مریم کے نزول کے جو لوگ منتظر ہیں کہ وہی بچ بچ بہشت سے نکل کر فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے زمین پر اتر آئیں گے اس کی اصل حقیقت کیا ہے بلکہ میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں۔ سو اسی ۱۹۸) ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں ۔ اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہو گی یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اُس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو لہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرد یہ کے لحاظ سے