ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 189
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۸۹ ازالہ اوہام حصہ اول آنے کا وقت چودہویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہ کی بھی یہی رائے ہے اور مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے بھی اپنے ایک رسالہ میں ایسا ہی لکھا ہے اور اکثر محدثین اس حدیث کے معنے میں کہ جو الآيات بعد المأتین ہے اسی طرف گئے ہیں۔ اگر یہ کہو کہ مسیح موعود کا آسمان سے دمشق کے منارہ کے پاس اُترنا تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے تو اس کا جواب میں اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس بات پر ہرگز اجماع نہیں قرآن شریف میں اس کا کہاں بیان ہے وہاں تو صرف موت کا ذکر ہے بخاری میں حضرت یحیی کی روح کے ساتھ حضرت عیسی کی روح دوسرے آسمان پر بیان کیا ہے اور دمشق میں اُترنے سے اعراض کیا ہے اور ابن ماجہ صاحب بیت المقدس میں اُن کو ۱۸۵ نازل کر رہے ہیں اور ان سب میں سے کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ یہ تمام الفاظ و اسماء ظاہر پر ہی محمول ہیں بلکہ صرف صورت پیشگوئی پر ایمان لے آئے ہیں پھر اجماع کس بات پر ہے۔ ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔ سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اُتار کر دکھلا دیں ۔ صالحین کی اولاد ہو مسجد میں بیٹھ کر تضرع اور زاری کرو تا کہ عیسی ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لاویں اور تم سچے ہو جاؤ۔ ورنہ کیوں ناحق بدظنی کرتے ہو اور زیر الزام آیت کریمہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ آتے ہو ۔ خدائے تو بِهِ عِلم کے آتے ہو ۔ خدائے تعالی سے ڈرو۔ لطیفہ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآيات بعد المأتین ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ ۱۸۶ بنی اسرائیل : ۳۷