ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 188

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۸۸ ازالہ اوہام حصہ اول جناب ختم المرسلین احمد عربی صلعم کے اور کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتدا نہیں جس کی پیروی ہم کریں یا دوسروں سے کرانا چاہیں تو پھر ایک متدین مسلمان کے لئے میرے اس دعوے پر ایمان لانا جس کی الہام الہی پر بنا ہے کوئی اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگر میرا یہ کشف اور الہام غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہو رہا ہے اُس کے سمجھنے میں میں نے دھوکہ کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں حرج ہی کیا ہے۔ کیا اُس نے کوئی ایسی بات مان لی ہے جس کی وجہ سے اُس کے دین میں کوئی رخنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اتر آئے تو دلِ ما شاد و چشم ما روشن ۔ ہم اور ہمارا گر وہ سب سے پہلے اُن کو قبول ۱۸۳) کر لے گا اور اس پہلی بات کے قبول کرنے کا بھی ثواب پائے گا جس کی طرف محض نیک نیتی اور خدائے تعالیٰ کے خوف سے اُس نے قدم اُٹھایا تھا بہر حال اس غلطی کی صورت میں بھی (اگر فرض کی جائے ) ہمارے ثواب کا قدم آگے ہی رہا اور ہمیں دو ثواب ملے اور ہمارے مخالف کو صرف ایک لیکن اگر ہم سچے ہیں اور ہمارے مخالف آئندہ کی امید میں باندھنے میں غلطی پر ہیں تو ہمارے مخالفوں کا ایمان سخت خطرہ کی حالت میں ہے کیونکہ اگر سچ مچ انہوں نے اپنی زندگی میں حضرت مسیح ابن مریم کو بڑے اقبال و جلال کے ساتھ آسمان سے اترتے دیکھ لیا اور اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا کہ فرشتوں کے ساتھ اترتے چلے آتے ہیں تب تو ۔ اُن کا ایمان سلامت رہا ورنہ دوسری صورت میں ایمان سلامت رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ کیونکہ اگر اخیر زندگی تک کوئی آدمی آسمان سے اتر تا انہیں دکھائی نہ دیا بلکہ اپنی ۱۸۴ ہی طیاری آسمان کی طرف جانے کے لئے ٹھہر گئی تو ظاہر ہے کہ کیا کیا شکوک وشبہات ساتھ لے جائیں گے اور نبی صادق کی پیشگوئی کے بارہ میں کیا کیا وساوس دل میں پڑیں گے اور قریب ہے کہ کوئی ایسا سخت وسوسہ پڑ جائے کہ جس کے ساتھ ایمان ہی برباد ہو ۔ کیونکہ یہ وقت انجیل اور احادیث کے اشارات کے مطابق وہی وقت ہے جس میں مسیح اُترنا چاہیے اسی وجہ سے سلف صالح میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے